اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے فاتح شہریوں نے جمعرات کے روز العالم کے نامہ نگار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہم اس عظیم کامیابی پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں، شہداء کی لئے مغفرت اور زخمیوں کے لئے شفاء اور صحت و عافیت کی دعا کرتے ہیں۔غزہ کے الشفاء اسپتال میں اپنے ایک شہید دوست کے جلوس جنازہ میں شرکت کی غرض سے آنے والے فلسطینی نے کہا: ہم اس عظیم کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں؛ دشمن کے پاس طاقت کی کوئی کمی نہ تھی اور وہ جنگی طیاروں کا بے تحاشا استعمال کررہا تھا لیکن اس کے باوجود ہمیں اللہ تعالی نے فتح عطا کی۔غزہ میں ایک دوسرے فلسطینی نے کہا: ہم ان ذرائع ابلاغ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے صہیونی جارحیت کے دوران فلسطینیوں کے حقائق کو دیانتداری سے منتقل کیا؛ ذرائع ابلاغ کو چاہئے کہ وہ غاصب اسرائیجی ریاست کے حقائق کو دنیا والوں کے سامنے پیش کریں اور دنیا والوں کو بتائیں کہ صہیونی ریاست نے ہمارے خلاف ممنوعہ ہتھیار استعمال کئے۔ انھوں نے کہا: میں نہ صرف ایک فلسطینی کی حیثیت سے بلکہ اسلامی مزاحمت کے رکن مجاہد کی حیثیت سے اس کامیابی پر فخر کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا: ہمارے حوصلے بلند تھے اور ہم اس جنگ میں صہیونیوں سے خوفزدہ نہیں ہوئے کیونکہ ہم دفاع کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ ایک اور فلسطینی نے کہا: فلسطینی قوم نے اپنی افسانوی استقامت سے ان آٹھ روز کے دوران صہیونی ریاست نے مختلف قسم کے جنگی طیارے اور مہلک میزائل ہمارے خلاف استعمال کئے اور شہیدوں میں بچوں کی تعداد بہت زيادت تھی لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوئے اور یہ صہیونی دشمن کے دیوالیہ پن کی علامت ہے۔ جو اخلاقیات، بین الاقوامی معیاروں اور انسانی حقوق کو ملحوظ نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110