ابنا: لیبر حکومت کے وزیر داخلہ رکن پارلیمنٹ ایلن جانسن نے ہزارہ کمیونٹی کے زیر اہتمام دارالعوام میں منعقدہ ہزارہ اہل تشیع کے قتل عام کے حوالے سے انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ کوئٹہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کو کسی حد تک سرکاری حمایت حاصل ہے اور حکومت اور سیکورٹی فورسز میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ہزارہ عوام کو قتل کرنے والوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔دارالعوام میں ہونے والی اس کانفرنس میں کم وبیش 20 ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی، ایلن جانسن نے جو ہزارہ برادری کے بڑے حامی بن چکے ہیں اس بات پر مایوسی کااظہار کیا کہ سابقہ اجلاسوں میں ہزارہ برادری کا قتل عام روکنے اوراس میں ملوث عناصر کو سزا دینے کامطالبہ کیاگیاتھا لیکن ابھی تک کسی ایک کو بھی سزا نہیں ہوسکی، اب تک کسی ایک شخص کو بھی گرفتار نہیں کیاگیا ہے۔ ہزارہ برادری کے 5 ہزار افراد کوئٹہ چھوڑ کر جاچکے ہیں جبکہ طلبہ خوف کے مارے یونیورسٹی نہیں جارہے ہیں؛ ہزارہ برادری خوف ودہشت کی لپیٹ میں ہے۔برطانوی رکن پارلیمنٹ نے ہزارہ گروپ کو درپیش مسائل حل کرنے، ان کاقتل عام روکنے اورہزارہ برادری کے خلاف امتیازی سلوک ختم کرنے کیلئے آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کی تشکیل کااعلان کیا۔ کانفرنس میں ایک قراردادکے ذریعے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ وہ آبادی کو قتل عام سے بچائے۔ قرارداد میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ہزارہ برادری کے قتل میں ملوث ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اس رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے کم وبیش6 لاکھ افراد رہتے ہیں گزشتہ 12 سال کے دوران دہشت گردی کے 109 حملوں میں ہزارہ برادری کے کم وبیش800 افراد کوقتل اور2 ہزار کو زخمی کیاجاچکا ہے، ان میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری کالعدم لشکر جھنگوی نے قبول کی ہے لیکن اب تک ہزارہ برادری کے کسی بھی قاتل کو قانون کے کٹھہرے میں نہیں لایاجاسکا۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ ایلن جانسن نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے شہریوں کوتحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے جو کہ ایک المیہ ہے۔انھوں نے الزام لگایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کوگرفتار کرنے کے بجائے ہزارہ برادری کے لوگوں کے سفر کرنے پر پابندی لگارہے ہیں۔انھوں نے پاکستانی حکومت سے کہا کہ وہ بتائے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کررہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔/110
21 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 366929
برطانیہ کے فارن اور کامن ویلتھ منسٹر کو دی گئی ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ پاکستانی حکام مبینہ طور پر کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کے شیعیان اہل بیت (ع) کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔