ابنا: وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہےکہ تہران میں شام کی قومی کانفرنس کامقصد بغیر بیرونی مداخلت کے شام کےبحران کو حل کرنا ہے۔ رامین مہمان پرست نے آج تہران میں شام کے قومی مذاکرات کے موقع پر کہا کہ ایران چاہتا ہے کہ شام کے تمام گروہ مل کر خود اپنے مسائل حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ تہران میں شام کے قومی مذاکرات سے شام کے گروہوں کو یہ مدد ملے گي کہ وہ مفاہمت آمیز طریقے سے اپنابحران حل کرسکیں۔ رامین مہمان پرست نے کہا کہ اس کانفرس سے وسیع پیمانے پر مواقع حاصل ہوسکتے ہیں اور یہ کانفرنس شام میں قیام امن کے لئے مناسب ماحول فراہم کرے گي۔ انہوں نے کہا کہ تہران میں شام کے گروہوں کے قومی مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ شامی گروہوں کو شامل کرنے کی کوشش کی گئي ہے۔ رامین مہمان پرست نے کہا کہ اس اجلاس میں شام کی دو سو سیاسی شخصیتں شرکت کر رہی ہیں۔ واضح رہے اس کانفرنس میں سوڈان الجزائر، مصر، ترکی اور لبنان و عراق کی ممتاز سیاسی شخصیات بھی شرکت کررہی ہیں۔ مہمان پرست کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈی ایٹ گروپ کے اجلاس کے موقع پر شام کے بارے میں ایران ترکی اور مصر کا اجلاس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شام کے مسئلے کو مفاہمت آمیز طریقے سے حل کرنے کے لئے شام کے گروہوں کو قریب کرنے کے لئے ہرموقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ رامین مہمان پرست نے کہا کہ ممکن ہے سہ فریقی اجلاس میں اور ممالک بھی شریک ہوجائيں لہذاہماہنگي سے ان کی شرکت کا امکان ہے۔۔۔۔۔۔۔/110
18 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 365922
اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کی تقریر سے شام کے قومی مذاکرات شروع ہوئے۔