18 نومبر 2012 - 20:30

اس اجلاس میں حکومت شام کی دوسوحامی اورمخالف دینی ، سیاسی ، اورقبائلی شخصیتوں نےحصہ لیاہے۔

ابنا: تہران اجلاس میں برازیل اوربعض دوسرے ممالک کے نمائندے اورتہران میں تعینات مختلف ممالک کے سفیر بھی موجود ہیں جوشام کے مسئلے کے حل ميں مدد کرنے کے خواہاں ہيں۔
شام کے قومی مذاکرات اجلاس میں شام کی سماجی ڈیموکریٹک پارٹی، شامی ڈیموکریٹک پارٹی، لادین ڈیموکریٹک پارٹی، خومختارجوانوں کی انجمن، کرد قومی پارٹی، قومی نجات محاذ، قومی اتحاد تنظیم، اوردوسری دسیوں سیاسی شخصیتوں کے ساتھ ہی الجزائر، ترکی، مصر، لبنان، اور عراق کے نمائندوں کی موجودگی نے اس اجلاس کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔
شام کے سلسلے میں یہ پہلا اجلاس ہے جس میں شامی حکومت کے حامی اورمخالفین دونوں ایک ساتھ موجود ہیں اورباہمی اختلافات پرگفتگوکررہے ہيں ۔
شامی وزیربرائے قومی آشتی علی حیدر جواسدحکومت کے سابق ناقدین میں سے ہیں اورسیاسی اصلاحات کے تناظرمیں قومی آشتی کے وزیرکی حیثیت سے منصوب ہوئے ہيں، بشاراسدحکومت کی نمائندگی میں تہران اجلاس میں موجود ہیں۔
یہ اجلاس ایسے موقع پرمنعقد ہوا ہے کہ شام کے بحران کوڈیڑہ برس کاعرصہ گذرہا ہے اوراس دوران کے تلخ واقعات کے بیچ ہم بشاراسدکے حکومت کے حامیوں اورمخالفین کے مختلف منظرنامے دیکھ چکے ہيں جبکہ سلفی ووہابی گروہوں کے تشدد میں روزبروزاضافہ ہورہا ہے ۔سعودی عرب ، ترکی اورقطرسمیت علاقے میں امریکہ اوریورپ کے اتحادی بشاراسد کے مخالف محاذکے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں تاکہ بشاراسدحکومت گرانے کی زمین ہموارکرسکیں ۔قطرکے دارالحکومت دوحہ کاحالیہ اجلاس اوراس میں حکومت شام کے مخالفین کااتحاد بھی اسی گروہ ميں شامل ہے اس اتحاد کی تشکیل کامغرب اوربعض ممالک نے بڑے پیمانے پرخیرمقدم کیاہے ۔لیکن سیاسی مذاکرات کے حامیوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ وہ مخالفین کے سامنے منطقی اورمعقول راستے پیش کریں اوران میں علاقے کے وہ ممالک بھی ہیں جوقومی مذاکرات کے ذریعے بحران شام کوحل کرنے کے خواہاں ہیں اوران مذاکرات کی حمایت کررہے ہيں۔ اس سلسلے میں روس چین اورایران اس بحران کوسیاسی طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کررہے ہيں اورشام کے غیرمسلح گروہوں کے رہنماؤں اورحکومت شام کے حامیوں کے درمیان مذاکرات کی زمین ہموارکرنے کی کوشش کررہے ہيں ۔سیاسی ماہرین کاخیال ہے کہ پرامن طریقے سے اصلاحات اورسیاسی تبدیلی ہی بحران شام کاواحدراہ حل ہے ۔امریکہ اوراس کے بعض اتحادیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پرمالی مدد یاکسی بھی وسیلے سے شام میں برسراقتدارحکومت کوگرانے اوراس ملک کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اورعوام کالاحاصل قتل، دوحہ جیسے اجلاسوں کے فیصلوں کاماحصل ہے ۔
ان حساس حالات میں جوچیزاہم ہے وہ یہ کہ قومی مذاکرات کے لئے کی جانے والی کوششوں کوکامیاب بنایاجائے تاکہ شام کی برجستہ شخصیتیں اورڈیموکریٹک راہ حل کے خواہاں مخالفین قومی مذاکرات کوحقیقت کامفھوم دے سکیں۔ایران نے کوفی عنان کے زمانے میں بھی اوراس وقت بھی اقوام متحدہ کے نمائندے اخضرابراہیمی کی کوششوں کی حمایت کرتاہے اوراس نے قاھرہ اجلاس میں بھی پوری ذمہ داری سے شرکت کی۔ اس روش کے ساتھ تہران اجلاس کانعرہ تشدد کاانکار اورڈیموکریسی کے اقرارپرمبنی ہے۔
وزیرخارجہ علی اکبرصالحی نے اس بات پرتاکیدکرتے ہوئے کہ شام کے بحران سے نکلنے کاراستہ خود شام کے عوام کے ذریعے اورپرامن طریقے سے پیداکیاجاناچاہئے ، امیدظاہرکی کہ یہ اجلاس، مخالفین اورحکومت شام کے درمیان پرامن مذاکرات کاراستہ ہموارکرے گی اورتہران اجلاس حکومت مخالفین سمیت شام کے مختلف طبقوں کے درمیان بڑے پیمانے پرمذاکرات کے انعقاد کے لئے ایک مقدمہ ہوناچاہئے۔

.....

/110