17 نومبر 2012 - 20:30

غزہ پرصہیونی فوجیوں کی یلغار کاسلسلہ جاری ہے۔ صہیونی فوجیوں نے غزہ کے مختلف علاقوں پرحملہ کرکے بڑے پیمانے پر معصوم بچوں اور عورتوں کو خون میں نہلایا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق صہیونی جارحیت کی تازہ لہر میں اب تک کم سے کم اکتیس سے زیادہ فلسطینی شہری شہید اور تین سو سے زيادہ زخمی ہوچکے ہيں۔ صہیونی فوج کے حملے میں وزیراعظم ہاؤس بھی تباہ ہوگیا ہے غزہ کے النصر علاقے میں واقع فلسطین کے وزیر اعظم ہاؤس پر آج صبح کئے جانیوالے فضائی حملے میں پانچ منزلوں پر مشتمل یہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی لیکن اس میں ہونے والے ممکنہ جانی نقصانات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔  اس سے قبل صہیونی طیاروں نے غزہ پٹی میں واقع جبالیا پولیس ہیڈ کوارٹراور مسجدالرحمان سمیت متعدد سرکاری اور سیکوریٹی اداروں کو نشانہ بنایا تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران فلسطینی تحریک استقامت کے ایک بڑے حامی کی حیثیت سے صہیونی فوج کے فضائی حملوں کورکوانے کے لئے بھرپورسفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ علاقے کی بعض دوسری حکومتوں اورعوام نے بھی صہیونی حملوں پرسخت ردعمل ظاہرکیاہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں عوام نے تہران سمیت ملک کے سات سوشہروں ميں مظاہرے کئے ، ایرانی مظاہرین نے غزہ کے سلسلے میں اسرائیلی جرائم پرعرب ممالک کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے امریکہ مردہ باد اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے اورجعلی صہیونی ریاست سے اپنی نفرت وبیذاری کااظہارکیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ نے جواس وقت جیبوتی کے دورے پرہیں ، ایک بیان میں صہیونی حملوں کورکوانے کے لئے فوری اقدام کی ضرورت پرتاکیدکی۔ علی اکبرصالحی نے تحریک جہاد اسلامی کے سکریٹری رمضان عبداللہ سے ٹیلی فون پررابطہ کرکے شہدائے غزہ کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہوئے تاکیدکی کہ ایران، اسرائیل کی سیاسی اورمعنوی حمایت کرتارہے گااورفلسطینیوں کی انسانی ہمدردی پرمبنی امداد جاری رکھے گا۔ ایران کے وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اوراسلامی تعاون تنظیم کے جنرل سکریٹری کے نام الگ الگ پیغام میں غزہ میں شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کوروکنے کے لئے عالمی برادری کے فوری اقدام پرتاکیدکی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکرڈاکٹرعلی لاریجانی نے بھی عالمی بین الپارلیمانی یونین کے سکریٹری آندرزبی جانسن سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے زمین، فضااورسمندرسے وسیع پیمانے پرصہیونی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے نہایت شرمناک قراردیا اوراس سلسلے میں ٹھوس اقدام کامطالبہ کیا۔ اس ٹیلی فونک گفتگومیں عالمی بین الپارلیمانی یونین کے جنرل سکریٹری نے بھی اعلان کیاکہ اس مسئلے کاجائزہ لینے کے لئے ایک وفد غزہ کے لئے روانہ کیاجائے گااوراس کے بعدجنگ رکوانے کے لئے بیان جاری کیاجائے گا۔ ڈاکٹر لاریجانی نے بین الپارلیمانی اجلاس کے سکریٹری سے بھی رابطہ کرکے صہیونیوں کے ہاتھوں فلسطین کی ملت مظلوم کے قتل عام کاسلسلہ رکوانے کے لئے فوری اقدام پرتاکیدکی۔ ڈاکٹرلاریجانی نے لبنان ، الجزائر، پاکستان، شام ، عراق، ٹیونس اورترکی کی پارلیمانوں کے اسپیکروں کوبھی فون کرکے اسرائیلی جرائم کی مذمت اورغزہ کے عوام کے قتل عام کوروکنے کوضروری قراردیا۔ ڈاکٹرلاریجانی نے الجزائرکی پارلیمنٹ کے اسپیکرسے ٹیلی فونی گفتگوميں کہاکہ ایران اس سلسلے میں فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑارہے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی ہلال احمرکمیٹی نے فلسطین کی ہلال احمرکمیٹی کے نام اپنے پیغام میں غزہ کے لئے انسانی ہمدردی پرمبنی امداد بھیجنے پرآمادگی کااظہارکیاہے۔ اس میں کوئی شک نہيں کہ اس وقت غزہ کے بے گناہ عوام صہیونی فوج کی بدترین جارحیت کاشکارہيں لیکن افسوس کامقام یہ ہے کہ بعض مسلمان ممالک کے سربراہ جوامریکہ کے غلام بے دام بنے ہوئے ہيں نہایت ڈھٹائی سے امریکہ کی ہری جھنڈی سے شروع ہونے والے اسرائیلی حملے کاتماشہ دیکھ رہے ہيں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110