11 نومبر 2012 - 20:30

چیچنیا کے صدر شیخ القرضاوی کی طرف سے چیچنیا اور روس کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے چیچنیا کے صدر "رمضان قادروف" نے قرضاوی سے کہا کہ کروڑوں روسی مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگانے کے بجائے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قطر کے مصری نژاد درباری مفتی شیخ القرضاوی نے لیبیا اور شام میں قتل و غارت کو اسلام کا رنگ دینے اور ان دو ملکوں کو دشمنان اسلام کی خواہش کے مطابق ویرانوں میں تبدیل کرنے اور شام میں امریکی ـ اسرائیلی ـ قطری ـ ترکی ـ سعودی پراجیکٹ کی ناکامی کے بعد اپنا غیظ و غضب روس کے مسلمانوں پر اتارنے کا ارادہ کیا ہے اور آج کل روس پر مختلف النوع حملے کررہے ہیں جس کی وجہ سے روس کے کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل داؤ پر لگنے کا خطرہ ہر عقلمند شخص کے نزدیک، مسلّم ہے۔ شیخ الفتنہ کی فتنہ انگیزیوں کی حالت یہ ہے کہ شام میں ناکامی کے بعد گویا وہ بےروزگاری سے بچنے کے لئے نئے پراجیکٹ پر کام شروع کرنا چاہتے ہیں اور قطری عوام کی دولت کا رخ روسی مسلمانوں کے قتل عام کی طرف پلٹانا چاہتے ہیں۔ قرضاوی کی جانب سے روسی مسائل میں مداخلت آمیز بیانات کے بعد چیچنیا کے صدر رمضان قادروف نے انہیں سیاست چھوڑنے اور فتنہ انگیزی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔صدر چیچنیا نے اپنا سرکاری بیان کل بروز ہفتہ 10 نومبر 2012 کو جاری کیا اور شیخ الفتنہ کے بیانات کو نامعقول اور غیرمنطقی قرار دیتے ہوئے کہا:"سب سے پہلے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ موقف روسی حکومت کے خلاف نہيں بلکہ روس کے مسلمانوں کے خلاف ہے وہ مسلمان جو روس کے باشندے ہیں، یہیں پیدا ہوئے ہیں اور یہیں زندگی بسر کررہے ہیں اور اس ملک کے مقدرات ان کے اپنے مقدرات ہیں"۔قادروف نے زور دے کر کہا ہے: "القرضاوی کا بیان روسی مسلمانوں کی حیرت کا سبب بن گیا ہے کیونکہ روس کے آئین میں دینی آزادیوں کو تسلیم کیا گیا ہے او اس ملک کے کروڑوں مسلمان اپنے دینی فرائض آزادی کے ساتھ سرانجام دیتے ہیں؛ اور روس کے مسلمانوں کے لئے ـ جنہیں کئی عشروں تک دینی مناسک کی اجارت نہ تھی ـ بہت اہم ہے"۔قادروف نے کہا ہے: "صدر روس ولادیمیر پیوٹن نے بارہا اعلان کیا ہے کہ روس مسلم ممالک کا بہترین شریک کار ہے۔ روس میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا تین کروڑ کے قریب ہے جن کے لئے ہر سال نئی مساجد تعمیر کی جاتی ہیں اور ہزاروں روسی مسلمان ہر سال فریضہ حج ادا کرنے کی نیت سے حجاز شریف کے سفر پر جاتے ہیں جبکہ وہ اس سے پہلے عشروں تک مساجد میں نماز کی ادائیگی، حفظ و قرائت قرآن، دینی علوم کا حصول اور مکہ و مدینہ کے مقدس مقامات کی زیارت سے محروم تھے"۔صدر چیچنیا نے اس کے بعد شام میں قرضاوی کے حلیفوں کی خونخوارانہ مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے: "میں قرضاوی کو یہ یادآوری کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ ملک روس نہیں ہے جو دنیا بھر سے کرائے کے ہزاروں قاتل و جلاد بھرتی کرکے انہیں شام میں بھجوانے کے لئے مسلح کرتا ہے اور انہیں دولت سے مالامال کرتے ہیں تا کہ وہ شام جاکر وہاں کے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا قتل عام کریں"۔قادروف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ شام کے سلسلے میں روس کی اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں ہیں جن پر وہ عمل کررہا ہے چنانچہ القرضاوی کو عالم اسلام کی رائے عامہ کے ساتھ کھیلنے سے پرہیز کرنا چاہئے؛ روسی مسلمانوں کو امید ہے کہ قرضاوی اپنے بیان میں ایک بار پر غور و تدبر کریں اور اس قسم کے بیانات میں موجودہ غلطیوں کا جائزہ لے کر ان منفی اور خطرناک نتائج اور نقصانات کا ادراک کریں جو ان کی باتوں سے امت مسلمہ کو پہنچ سکتے ہیں اور اپنے آپ سے پوچھیں کہ <<عالم اسلام اور روس کو لڑانے کا فائدہ کس کو ملے گا؟>> انھوں نے دنیائے اسلام کے دوسرے خیرخواہوں کی مانند القرضاوی کو نصیحت کی کہ اپنے اصلی کام کی طرف لوٹیں۔قادروف نے کہا ہے: "ہمارے رائے میں، درست اور بہتر یہی ہے کہ القرضاوی سیاست میں ملوث نہ ہوں؛ بلکہ سیاست کو پیشہ ور سیاستدانوں کے سپرد کریں اور خود دینی معاملات میں مصروف ہوجائیں۔اس سے قبل روسی مسلمانوں کے دارالافتاء نے مورخہ 31 اکتوبر کو اپنے ایک بیان میں روسی مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ قرضاوی کے بیانات کو اہمیت نہ دیں۔واضح رہے کہ روسی مسلمان کی آبادی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور تاتارستان، داغستان، اینگوش، باشقیرستان، چیچنیا، چواش اور قاباردینا بالقار نامی جمہوریائیں مسلم جمہوریائیں سمجھی جاتی ہیں اور روس کے بہت سے قدرتی وسائل ان ہی علاقوں میں ہیں۔ ..................../110