اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اخبار القدس العربی نے عرب حکام کے ساتھ ناجائز تعلقات کے سلسلے میں سابق صہیونی وزیر خارجہ زیپی لیونی کے حالیہ اعترافات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے: اہم مسئلہ یہ ہے کہ لیونی نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس کے اکثر گاہک (کسٹمر) عرب حکمران تھے لیکن وہ ان حکام کے خاندانی روابط کو خدشہ پہنچنے کے خدشے کی بنا پر ان حکام کے نام نہيں لیتی۔ لیونی نے انکشاف کیا ہے کہ وہ عرب حکام کے ساتھ جنسی تعلق بنا کر ان سے اہم معلومات حاصل کرکے صہیونی ایجنسی موساد کے حوالے کرتی رہی ہے۔ لیونی نے کہا ہے کہ اس کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کے لئے ضروری دستاویزات بھی موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کونسے عرب حکام ہیں؟ اور جواب یہ ہے کہ جن عرب حکام نے شرم و حیاء کی حدیں پھلانگ کر اور سیاسی حوالے سے عرب اور مسلم اقوام کے جذبات کا مذاق اڑا کر، لیونی کے ساتھ اعلانیہ ملاقاتیں کی ہیں وہ کچھ زیادہ انجانے بھی نہیں ہیں۔ وہ جنھوں نے لیونی سے ہاتھ ملایا اور اس کے ساتھ یادگار تصویریں بنوائیں وہ بھی بالکل جانے پہچانے ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کس عرب ملک کے کون سے سربراہ نے لیونی کے ساتھ ناجائز تعلق قائم کیا اور اس کا عہدہ کیا تھا؟لیونی نے حال ہی میں برطانوی اخبار ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بعض عرب سربراہان اور وزراء کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کئے ہیں اور بعض فلسطینی سیاستدانوں اور سائنسدانوں کو قتل کیا ہے۔ لیونی نے اس انٹرویو میں کہا کہ صہیونی رابی "آري شِوات" نے صہیونی عورتوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اہم معلومات کے حصول کے لئے دشمنوں کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کریں اسی وجہ سے میں بھی اپنے سابقہ اقدامات کو فاش کررہی ہوں۔صہیونی اخبار یدیعوت آحارونوت نے بھی اس انٹرویو کا پورا متن شائع کرکے لکھا ہے کہ لیونی مشہورترین صہیونی اہلکاروں میں سے ہے جس نے معلومات حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو دوسروں کے حوالے کیا۔ لیونی ـ جو فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر مطلوبہ مجرم ہے ـ نے اپنے "شجاعانہ" اقدامات کو پوری بے باکی سے فاش کیا لیکن وہ عرب حکام جنہوں نے اس کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کئے، کچھ بول سکیں گے؟ کیا عرب حکام میں سے کوئی لیونی کا جواب دے سکے گا؟یقینی امر ہے کہ لیونی کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے والے عرب حکام اس کے اعترافات کا جواب دینے کے بجائے ملینوں ڈالر کے تحفے اس کے لئے بھجوائیں کے تاکہ وہ ان کے نام فاش نہ کریں؛ بہرحال ہم زیپی لیونی کے اعترافات کی روشنی میں بعض عرب حکام کے ناموں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

بعض ذرائع نے بعض عرب حکام کا نام لے کر دعوی کیا ہے کہ لیونی کے ان کے ساتھ تعلقات رہے ہیں لیکن ابھی یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صہیونی ریاست کے حکمرانوں کی کوشش رہی ہے کہ ایک فحش معاشرہ تشکیل دیں جس میں وہ اپنے مذموم مقاصد کو آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں اور صہیونی سرغنے سرکش معاشروں کو قابو میں لانے کے لئے انہیں شہوت جنسی روابط کے میں الجھا دینے کی پالیسی پر کاربند ہیں اور یہ پالیسی اس قدر پھیل گئی ہے کہ اب تو خود صہیونی حکام بھی اس میں الجھ گئے ہیں اور صہیونی حکام سے لے کر مذہبی رابیوں تک سب اس بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں اور رابیوں نے تو اسکولوں کے بچوں تک کو جنسی زيادتی سے معاف کرنا روا نہيں رکھا ہے۔یہ بیماری آج زيپی لیونی کی طرف سے عرب اور مغربی حکام کے ساتھ ـ خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لئے ـ ناجائز تعلقات کے اعتراف نے برائی پر مبنی صہیونی پالیسیوں کو مزید واضح کردیا ہے۔ لیونی نے کہا ہے کہ اس نے یہ سب اسرائیل کے مفاد کے لئے کیا ہے اور آج بھی ضرورت پڑے تو وہ ایسا کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔ لیونی ستر کی دہائی میں ماڈل تھی اور بعد میں موساد میں شامل ہوئی۔ اس نے حال ہی میں ٹائمز کے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ جب وہ موساد میں تھی تو اس نے متعدد یورپی اور عرب حکمرانوں کے ساتھ ـ خفیہ معلومات کے حصول کے لئے ـ جنسی تعلق استوار کرتی رہی تا کہ ان کو بلیک میل کرے اور انہیں موساد کے جال میں پھنسا دے/ لیونی نے کہا کہ اگر وہ اسرائیل کی خاطر پھر بھی ناجائز تعلقات استوار کرنے اور لوگوں کو قتل کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس سے قبل بھی بعض ذرائع نے کہا تھا کہ وہ ہم جنس باز ہے اور اس کے سابق امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ اس قسم کے تعلقات رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سابق صہیونی وزیر "لیمور لیونات" نے کہا تھا کہ اس کو معلوم تھا کہ لیونی کے کانڈولیزا کے ساتھ جنسی تعلقات ہیں۔آج سے چند مہینے قبل فرانس پریس نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ لیمور لیونات نے وزیر اعظم نیتن یاہو سے کہا ہے کہ زیپی لیونی کے رائس کے ساتھ جنسی تعلقات تھے۔ اس کے بعد بعض امریکی ویب سائٹس نے بھی کانڈولیزا رائس کے حوالے سے لکھا کہ وہ ہمجنس بازی کا اعتراف کرچکی ہے اور اس نے اپنی دوست کے لئے ایک اپارٹمنٹ خریدا ہے تا کہ اس کے ساتھ اسی قسم کے تعلقات جاری رکھ سکے۔ ادھر زیپی لیونی نےکہا ہے کہ متعدد عرب سائنسدانوں کو قتل کرنے کی وجہ سے وہ یورپ میں سیکورٹی اداروں کو مطلوب ہے لیکن صہیونی لابی اس کو بچا کر رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا زیپی لیونی تاریخی یہودی بداخلاقی کا مظاہرہ کررہی ہے؟ اس میں شک نہیں ہے کہ صہیونی حکمرانوں نے آج تک کسی بھی جرم و ظلم اور فحشاء اور برائیوں کو اپنی راہ میں رکاوٹ نہیں سمجھا ہے اور اسی بےراہروی کے ساتھ بدعنوان اور عیاش عرب حکمران ان کے لئے آسان ترین نشانے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ صہیونی ریاست کی تاریخ سے واقف لوگوں کو معلوم پے کہ جنسی تعلق ابتداء ہی سے اس ریاست اور اس کے آقا و بانی سرکار انگلیشیہ کا سیکورٹی حربہ ہے گوکہ لیونی سے قبل کسی اعلی صہیونی سیاستدان نے اس طرح اعلانیہ اپنے کرتوتوں کا اعتراف نہیں کیا ہے۔ زیپی لیونی کے اعترافات سے اس سوال کا جواب بھی ملتا ہے کہ آخر عرب حکمران اسرائیل کے سامنے اتنا کمزور موقف کیوں اپناتے ہیں؟دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ زيپی لیونی نے خود ہی اعتراف کیا ہے ایک یہودی مذہبی راہنما نے فتوی دے کر معلومات کے عوض جنسی تعلقات برقرار کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہ فتوی اور زیپی کا کردار منفرد کردار نہيں ہے بلکہ یہ سلسلہ بیسویں صدی کے آغاز سے جاری ہے اور لیونی کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کو ضرورت پڑنے پر پھر بھی اپنا کردار دہراسکتی ہے! جس سے صہیونی مذہب کے اندر کی بے راہروی کا پتہ ملتا ہے جس نے یہودی شریعت کو اپنے سیاسی اغراض و مقاصد کی بنا پر تحریف کرکے رکھ دیا ہے گوکہ یہودی شریعت اس سے قبل بھی صحیح و سالم نہ رہ سکی تھی لیکن موجودہ زمانے میں صہیونیت مخالف یہودیوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو حکومت کے قیام کو بدعت سمجھتے ہیں اور ان کی شریعت میں صہیونی اہداف کو مدنظر نہیں رکھا گیا ہے۔ صہیونی شریعت ظالمانہ ترین اور پرتشدد ترین نسلی امتیاز پر مبنی ہے اور وہ صہیونی مفادات کے لئے جوہر عفت بیچنے کو بھی ایک حربے کے طور پر جائز سمجھتی ہے۔ ادھر عرب حکمران بھی کم مجرم نہیں ہیں بلکہ وہ بھی جوہر غیرت و دیانت کھو بیٹھے ہیں اور صرف پیٹ اور شہوت کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اپنی قوموں کی دولت اور عزت و عظمت و استقلال و خودمختاری کو داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں اور اگر ان میں گناہ اور بے عفتی کی گنجائش نہ ہوتی تو صہیونی جاسوس عورتیں کیونکر ان کو اپنے جال میں پھنسا سکتی تھیں؟ وہ جتنے اسرائیل کے وفادار ہیں اتنے ہی اسلام اور امت مسلمہ کے دشمن ہیں اور زیپی لیونی نے ان کے نام لے کر اس حقیقت کو ثابت کرکے رکھا ہے اور اگر وہ اسرائیل کے وفادار نہ ہوتے تو زیپی لیونی ـ جو خاص مقاصد کے لئے اپنے آپ کو عرب حکمرانوں کے حوالے کرسکتی ہے اور اعلانیہ اعتراف کرتی ہے کہ وہ کیا کچھ کرتی رہی ہے اور کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ـ ان کو رسوا بھی کرسکتی تھی لیکن اس نے ان کے ناموں کو صیغہ راز میں رکھا اور اگر ایک قدم اپنے اعترافات میں آگے بڑھاتی تو نہ جانے کتنے عرب حکمرانوں کی آبرو نیلام ہوتی اور عرب و اسلامی دنیا کے سینے پر صہیونی ریاست کی موجودگی کے اسباب زيادہ سے زيادہ روشن ہوتے۔

.............
/110