ابنا: اپنے تہنیتی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جس دین کامل کو خدا کے نزدیک پسندیدہ ترین دین قرار دیا گیا ہو اور جس کی ترویج و اشاعت کے لئے رحمت اللعالمین جیسی ہستی نے تکالیف اور مصائب برداشت کئے ہوں اور پھر جس دین کی سچائی کو دنیائے عالم پر واضح کرنے کے لئے رسول خدا اپنے اہل بیت اطہار کے ہمراہ مباہلے کے لئے نکل پڑے ہوں یہ امر عالم انسانیت کو اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ جلد یا بدیر بالاخر دنیائے عالم کو دین حق کی جانب ہی رخ کرنا پڑے گا کیونکہ دین اسلام ہی بالاخر انسان کی دنیوی و اخروی فلاح او ر نجات کا ضامن ہے۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ روز مباہلہ پیغمبر گرامی نے اپنے حقیقی جانشینوں کا تعارف کرا کے یہ بات رہتی دنیا تک کے لئے واضح کردی کہ اگر سسکتی اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کے لئے اگر کوئی نمونہ عمل ہے تو وہ خانواوہ رسالتۖ کے علاوہ کوئی اور نہیں۔کیونکہ خانوادہ عصمت و طہارت نے اپنے عمل و کردار کے ذریعے دنیائے عالم کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کیا اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام اور بدی کی قوتوں کے خلاف اعلان جہاد بلند کرکے بلاتفریق مذہب و مسلک' رنگ و نسل ' انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ عید مباہلہ کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہوگی کہ دین حق کی سربلندی اور ترویج کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے اور راہ حق پر عمل پیرا ہوکر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو بہتر بنانے کی سعی و کوشش کریں گے۔
.....
/169
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ روز مباہلہ پیغمبر گرامی نے اپنے حقیقی جانشینوں کا تعارف کرا کے یہ بات رہتی دنیا تک کے لئے واضح کردی کہ اگر سسکتی اور بھٹکتی ہوئی انسانیت کے لئے اگر کوئی نمونہ عمل ہے تو وہ خانواوہ رسالتۖ کے علاوہ کوئی اور نہیں۔کیونکہ خانوادہ عصمت و طہارت نے اپنے عمل و کردار کے ذریعے دنیائے عالم کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کیا اور معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام اور بدی کی قوتوں کے خلاف اعلان جہاد بلند کرکے بلاتفریق مذہب و مسلک' رنگ و نسل ' انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ عید مباہلہ کی بابرکت ساعتوں میں ہمیں اس عہد کی تجدید کرنا ہوگی کہ دین حق کی سربلندی اور ترویج کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے اور راہ حق پر عمل پیرا ہوکر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو بہتر بنانے کی سعی و کوشش کریں گے۔
.....
/169