5 نومبر 2012 - 20:30

رہبر انقلاب اسلامی نے عارف کامل آیت اللہ سید علی قاضی کانگریس کے نام اپنے پیغام میں فرمایا کہ آیت اللہ سید علی قاضی کمیاب اکابرین میں سے تھے اور وہ حسنات دہر میں سے میں ایک تھے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم امام سید علی خامنہ ای ـ دام ظلہ العالی ـ نے سیدعلی قاضی کانفرنس کے مہتممین سے خطاب کرکے فرمایا ہے کہ آیت اللہ اللہ قاضی کی شخصیت کی مثال شیعہ اکابرین کم نظیر ہے اور وہ حسنات دہر میں سے ایک ہیں۔ تبریز سے موصولہ اطلاعات کے مطابق رہبر معظم حضرت امام خامنہ ای کے دفتر کے سربراہ آیت اللہ محمدی گلپایگانی نے آیت اللہ سید علی قاضی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے رہبر معظم سے اس کانگریس کے مہتممین کی حالیہ ملاقات کی طرف اشارہ کیا اور رہبر انقلاب کے خطاب کا متن شرکائے کانگریس کو پڑھ کر سنایا۔رہبر معظم کے خطاب کا متن ملاحظہ ہو:

بسم‌ الله الرحمن الرحیم

بہت ہی پسندیدہ کام ہے مرحوم حاج میرزا علی آقائے قاضی کی تجلیل، ان شاء اللہ یہ بہت مفید اور عظیم کاموں ميں سے ایک ہے۔ مرحوم آقائے قاضی ـ میرزا علی آقائے قاضی ـ حسنات دہر میں سے ہیں ہیں، یعنی حقیقتاً مرحوم آقائے قاضی کی نمایاں علمی اور عملی شخصیت، اگر ہم نہ کہنا چاہیں کہ بےنظیر و بےمثل شخصیت ہے تو حق یہی ہے کہ اکابرین میں ان کی مثال کم ہی ملتی ہے۔  انھوں نے، اپنے معنوی اور عرفانی مقامات و مراتب کے علاوہ، بہت زیادہ شاگردوں کی تربیت کی اور یہ بہت قابل قدر حقیقت ہے؛ ایسی بزرگ شخصیات، جن میں سے بعض سے ہم نے ملاقات کی، ان کی زیارت کی، مرحوم آقائے طباطبائی، مرحوم آقائے سیدمحمد حسن الہی اور ان کے بھائی، مرحوم آقا میرزا ابراہیم شریفی ـ جو آقائے قاضی کے داماد بھی تھے اور زابل میں قیام پذیر تھے ـ مرحوم آقائے حاج شیخ عباس قوچانی اور حالیہ برسوں میں ہی مرحوم آقا بہجت؛ دوسرے اکابرین بھی تھے منجملہ آقائے حاج شیخ محمد تقی آملی، مرحوم حاج شیخ علی محمد بروجردی اور دوسری کئی شخصیات۔ اس سلسلے میں اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس حوزات علمیہ میں علمی، فقہی اور فلسفی سلسلے میں ـ اس صراط مستقیم پر ـ ایک خاص گذرگاہ اور ایک بہت خاص قسم کا تفکر ہے جو سب کے لئے نمونہ عمل ہوسکتا ہے، علماء کے لئے بھی نمونہ ہوسکتا ہے ـ بڑے اور چھوٹے علماء کے لئے ـ اور عام لوگوں اور نوجوانوں کے لئے بھی نمونہ ہوسکتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف ظاہری احکام کی پیروی پر اکتفا نہيں کیا، طریق معرفت، و سلوک و توحید پر گامزن ہوئے، مجاہدت کی، محنت کی اور مراتب عالیہ پر فائز ہوئے۔اور اہم یہ ہے کہ انھوں نے سیر و سلوک و ریاضت کا یہ عظیم سلسلہ انھوں نے ـ تصوف و عرفان وغیرہ کے بعض سلسلوں اور دکانوں کی طرح جعلی اور تحلیلی راستوں سے نہيں ـ بلکہ صرف اور صرف شرع مقدس کے راستے سے حاصل کیا۔یہی مرحوم آقا قاضي کا سلسلہ ـ ان بزرگواروں کا سلسلہ ـ جو مرحوم حاج سید علی شوشتری سے شروع ہوتا ہے ـ سب کے پہلے رتبے کے مجتہدین تھے۔ یعنی مرحوم سیدعلی شوشتری ـ جو فقہ و اصول میں شیخ کے شاگرد تھے اور اسی اثناء میں سلوک و اخلاق میں شیخ انصاری کے استاد بھی تھے اور شیخ آکر ان سے فیض حاصل کرتے تھے۔ مرحوم شیخ کی وفات کے بعد، سید علی شوشتری تھوڑا عرصہ زندہ رہے، انھوں نے وہیں سے شیخ کا درسی سلسلہ شروع کیا (جہاں سے شیخ کا سلسلۂ تدریس رک گیا تھا)۔ جن طلاب نے مرحوم حاج سید علی شوشتری سے فیض حاصل کیا، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں شیخ اور سید کے درس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا؛ یعنی علمی اور فقہی لحاظ سے ان کا مقام اس مرحلے میں ہے۔ان کے ممتاز شاگر ملا حسین قلی ہمدانی ہیں جو عرفان، معنویت اور سیر و سلوک کے لحاظ سے حقیقتاً عرش پر ہیں، یعنی مرحوم آخوند ملا حسین قلی ہمدانی کے مقام و مرتبت کی عظمت قابل بیان نہيں ہے؛ وہ علم و دانش کے لحاظ سے ـ شیخ انصاری کے شاگر ہونے کے ناطے ـ علم فقہ و اصول میں شیخ کے درجہ اول کے شاگردوں میں سے تھے؛ لیکن سیر و سلوک اور عرفان و توحید کے لحاظ سے ان پر غالب تھے، کیونکہ وہ اسی طریق پر گامزن تھے۔ ان کے شاگرد ـ جو مرحوم آقا قاضی کے اساتذہ تھے ـ جیسے مرحوم حاج سید احمد کربلائی، مرحوم حاج شیخ محمد بہاری اور اس طرح کے دوسرے افراد، یہ سب وہ لوگ تھے جو فقہی لحاظ سے بلند مرتبے پر فائز تھے؛ یعنی مرحوم حاج سید احمد کربلائی اس درجے پر فائز تھے کہ مرحوم آیت اللہ العظمی میرزا محمد تقی شیرازی (تمباکو تحریک میں انگریزوں کو مات دینے والے مرجع تقلید) اپنی احتیاطات میں ان سے رجوع کیا کرتے تھے۔ اور یقیناً [سید کربلائي] مرجعیت کے درجے پر تھے؛ لیکن وہ خود اپنی تقلید سے منع کرتے تھے۔ سید کربلائی نے شکوہ کیا کہ "آپ اپنی احتیاطات میں مجھ سے کیوں رجوع کرتے ہیں؟" اور مرجعیت کا منصب سنبھالنے سے امتناع کیا اور اسی حالت معنویت پر قائم رہے ـ ہمارے مرحوم نانا آقا سید ہاشم نجف آبادی نے دیکھا تھا، ادراک کیا تھا جناب مرحوم کربلائی کا؛ کہا کرتے تھے: ہم سحر کے وقت یا راتوں میں مسجد سہلہ کی طرف جاتے یا مسجد سہلہ سے لوٹتے تو اس مرد ـ آقا سید احمد ـ کی صدائے گریہ ان کے گھر سے ـ راستے میں پڑتا تھا ـ سنی جاتی تھی۔ یہ اکابرین اس طرح کے حالات کے مالک تھے۔ مرحوم آقائے قاضی بھی ان ہی کے شاگرد ہیں۔ البتہ وہ اپنے والد مرحوم آقا سید حسین کے شاگرد بھی ہیں اور جب نجف آئے تو مرحوم آقا سید احمد کے شاگرد تھے، 10 یا 12 سال تک وہ مرحوم آقا سید مرتضی کشمیری کے شاگرد تھے؛ البتہ اس کتاب میں ـ جو مرحوم آقا سید علی قاضی کے فرزند مرحوم آقا سید حسن نے لکھی ـ لکھا ہے کہ انھوں نے سید مرتضی کشمیری کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہیں کیا بلکہ ان کی مصاحبت سے فیض حاصل کرتے رہے ہیں۔ لیکن میں نے اسی کتاب میں یا پھر مرحوم آقا سید محمد حسن طہرانی کی کتاب میں دیکھا ـ مجھے صحیح طور سے یاد نہیں ہے ـ کہ مرحوم آقا قاضي کہتے ہیں کہ "میں نے نماز پڑھنا آقا سید مرتضی کشمیری سے سیکھا"۔ آپ دیکھیں کہ ان الفاظ کے معانی کتنے عمیق اور گہرے ہیں۔ ہم لوگ بھی نماز پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم اچھی نماز پڑھتے ہیں، یہ بزرگ مرد عارف جو برسوں تک اپنے والد سے کسب فیض کرتے رہے ہيں اور پیشرفت کرچکے ہیں، جب نجف آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ "میں نے نماز پڑھنا ان سے سیکھ لیا"۔ اسی اثناء میں مرحوم آقا میرزا علی قاضی کے شاگرد نقل کرتے ہیں کہ وہ اتنے مسائل کے باوجود ـ زندگی کے متعدد مسائل کا سامنا تھا انہیں، بڑا کنبہ، غربت اور مختلف قسم کے مسائل ـ جب نماز میں وارد ہوتے تو پوری دنیا سے غافل ہوجاتے تھے، یعنی حالت نماز میں ذکر و خشوع و توسل میں ڈوب کر پورے عالم سے فارغ البال ہوجاتے تھے۔ یہ ایک غیرمعمولی گذرگاہ ہے؛ خاص الخاص گذرگاہ ہے، ہمارے لئے اس لحاظ سے حجت ہے کہ "ہم سمجھ لیں کہ یہ بھی ہے؛ یہ مقامات و مراتب، یہ تفکر، یہ سیر و سلوک اور راہ خدا میں یہ خلوص بھی ہے"۔  کبھی بھی مکاشفات وغیرہ کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے؛ بہت سی چیزیں ان سے نقل ہوئی ہیں ـ موثق واقعات جومرحوم آقا قاضی کی زندگی کے سلسلے میں نقل ہوئی ہیں اور ہم جیسوں کے لئے عجیب ہیں، ایک یا دو واقعات بھی نہیں ہیں، اور موثق بھی ہیں، انسان کو ان طُرُق کی درستی اور صحت کا یقین ہوجاتا ہے کہ ـ لیکن یہ واقعات کسی صورت میں بھی ان بزرگواروں کے لئے اہم نہیں تھے، اور ان کی زندگی اور عمل میں کردار کے حامل نہیں ہیں۔ وہ خود بھی اپنے شاگردوں سے کہا کرتے تھے کہ: اگر کہیں تمہیں کوئی مکاشفے کی حالت حاصل ہوئی، تو اس کو اہمیت نہ دو اپنا کام جاری رکھو، اپنا ذکر جاری رکھو، خشوع کی اس حالت کو محفوظ رکھو؛ یعنی ان کے مراتب و مقامات یہ ہیں۔ یہ اہم بات ہے کہ شخصیات کا اس طرح احیاء کیا جائے، ان کو پہچانا جائے؛ تا ہم ان کو متعارف کرانے کے لئے آگاہ اور عالم افراد سے استفادہ کریں، یعنی ایسے لوگ آکر ان کے بارے میں بات کریں جو ان کے مقامات و مراتب کو ـ کم از کم لفظی اور زبانی حد تک ـ ہمارے لئے بیان کریں تا کہ ہم بھی استفادہ کریں، بہرہ مند ہوجائیں؛ ورنہ صرف صرف علمی و فقہی مراتب بیان کرنا ـ جن میں وہ بہت بلند درجے پر فائز تھے ـ کافی نہیں ہے، مرحوم آقا میرزا علی قاضی جیسی شخصیات کے تعارف کے لئے۔ انہیں الحمدللہ بہت طویل عمر ملی اور بہت زیادہ توفیقات حاصل ہوئیں، کثیر تعداد میں شاگردوں کی تربیت کی، سلوک و عرفان کے معانی کے لحاظ سے بھی اور دوسرے پہلوؤں سے بھی، ایسے افراد میں سے ہیں کہ ـ جیسا کہ میں نے عرض کیا ـ کم از کم یہ ہے کہ ہم کہہ دیں کہ ان جیسے افراد بہت کم ہیں (اور وہ کم نظیر ہیں) یعنی یہ کہ ان کی شخصیت بہت نمایاں اور ممتاز ہے۔ یہ جو کتاب ان کے فرزند ـ مرحوم آقا سید محمد حسن ـ نے لکھی ہے جو چند سال قبل مجھ تک پہنچی اور میں نے اس کا کئی بار مطالعہ کیا، اس کتاب میں ان کے چند مکاتیب اور خطوط ہیں لیکن اس کتاب کے حاشئے کچھ اس طرح سے درج کئے گئے ہیں کہ انسان نہیں سمجھتا کہ کونسا حصہ متن کا حصہ ہے اور کونسا حصہ حاشئے کا جزو ہے۔ اگر آپ یہ مکتوبات ـ جو یقیناً ان مرحومین کے دوسرے پسماندگان کے پاس ہونگے ـ حاصل کریں۔ چار یا پانچ خطوط ہیں جن میں سے ایک غالبا مرحوم علامہ طباطبائی کے نام لکھا گیا ہے، اس خط کا کوئی عنوان نہیں ہے لیکن اس کے متن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مرحوم طباطبائی [صاحب تفسیر المیزان] کے نام لکھا گیا ہے؛ ایک غالبا آقا سید محمد حسن الہی کے نام ہے؛ ایک یا دو خطوط مرحوم آقا ابراہیم شریفی زابلی کے نام ہیں، جو ان کے داماد تھے؛ ایک خط انھوں نے اپنے عام شاگردوں کے نام لکھا ہے جو ماہ رجب یا ماہ ذوالقعدۃالحرام کے حلول کے سلسلے میں لکھا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ماہ حرام کا آغاز ہوچکا اور پھر جرام مہینوں کی اہمیت کے بارے میں کچھ چیزیں لکھتے ہیں اور شاید بعض خطوط دوسروں کے نام بھی ہونگے اور اگر آپ ان خطوط کو الگ سے شائع کریں، میرے خیال میں بہت اچھی یادگار ہوگی۔ بہرحال ہم حضرات کا بہت شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ کام بہترین انداز سے سرانجام کو پہنچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110