ابنا: عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت نے مفرورنائب صدر اور ان کے داماد پر گذشتہ سال دسمبر میں شیعہ زائرین پر کار بم حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ قائم کیا تھا۔ عراقی سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر بارود سے بھری ایک کار کو پکڑا تھا اور حملے کی اس سازش کو ناکام بنادیا تھا۔
بغداد کی مرکزی فوجداری عدالت نے گذشتہ جمعرات کو طارق الہاشمی اور ان کے داماد کو اپنے محافظوں کو وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر کو قتل کرنے کے لیے ان کی کار کے ساتھ بم نصب کرنے کی شہ دینے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔
گذشتہ دوماہ میں عراق کے نائب صدر کو ان کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران تیسری مرتبہ سزائے موت سنائی گئی ہے۔ انھیں دوسری مرتبہ سزائے موت سنائے جانے کے بعد ان کے وکیل معید عبید العزی نے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ انھیں اس مقدمے کی سماعت اور فیصلے کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ عراق کی ایک فوجداری عدالت نے دو ماہ قبل مفرور نائب صدر کو ڈیتھ اسکواڈ چلانے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر پہلی مرتبہ سزائے موت سنائی تھی۔ ان پر اور ان کے محافظوں پر چھے ججوں اور دوسرے سنئیر حکام کے قتل سمیت سنگین نوعیت کے ایک سو پچاس الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔
طارق الہاشمی دسمبر 2011ء میں اپنے خلاف مقدمات قائم ہونے کے بعد عراق فرار ہو گئے تھے۔ وہ 9 اپریل 2012ء سے ترکی میں روپوش ہیں اور ترکی انھیں ملک بدر کرنے سے انکار کرچکا ہے۔
.....
/169