4 نومبر 2012 - 20:30

اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ شام ميں جاري بحران علاقے کے سبھي ملکوں کے لئے نقصان دہ ہے ـ

ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے شام ميں جاري بد امني اور تشدد کے واقعات پر تشويش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے بحران کي واحد راہ حل حکومت اور مخالف گروہوں کے مابين مذاکرات ہيں -علي اکبر صالحي نے کويت کے الراي العام اور قطر کے الوطن اخبارو‎ں سے گفتگو کرتے ہوئے علاقائي تغيرات کے سلسلے ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے موقف کي وضاحت کي ـ انہوں نے کہا کہ عالمي برادري اور علاقے کے ممالک شام کي حکومت اور مخالف گروہوں کے درميان مذاکرات کي زمين ہموار کرکے بدامني کو ختم کرنے ميں مدد کر سکتے ہيں ـوزير خارجہ صالحي نے کہا کہ شام ميں بحران کا جاري رہنا علاقے اور دنيا کے مفاد ميں نہيں ہےـعلي اکبر صالحي نے بحرين کے سلسلے ميں ايران کا موقف پيش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا سرکاري موقف يہ ہے کہ بحرين کے عوام اور حکومت موجودہ صورت حال سے نجات پانے کے لئے کسي منصفانہ اور منطقي راہ حال پر اتفاق کريں ـ انہوں نے کہا کہ ہم بحرين کے اقتدار اعلي اور خود مختاري کا احترام کرتے ہيں اور ہم آشکارا طور پر اعلان کرتے ہيں کہ بحرين ميں حکومت کس قسم کي ہو اس سے ہمارا کوئي تعلق نہيں ہے ـوزير خارجہ صالحي نے ايران کي ايٹمي سرگرميوں ميں انحراف کے امکان سے متعلق سوال کا جواب ديتے ہوئے کہا کہ ہميں نيوکليئر بم کي ضرورت نہيں ہے اور ہم نے عقل و منطق اور ديني و اخلاقي تعليمات کي روشني ميں يہ فيصلہ کيا ہےـ وزير خارجہ صالحي نے ايران پر پابنديوں کے اثرات کے بارے ميں کہا کہ ايران پر تينتيس سال سے پابندياں لگي ہوئي ہيں، يہ کوئي نہيں چيز نہيں ہے البتہ اس وقت پابندياں کچھ بڑھا دي گئي ہيں ـوزير خارجہ نے قطر کے ساتھ ايران کے تعلقات کے بارے ميں پوچھے گئے ايک سوال کے جواب ميں کہا کہ ايران اور قطر کے تعلقات بہت ہي دوستانہ اور خوشگوار ہيں اگرچہ شام جيسے بعض معاملات ميں تہران اور دوحہ کے مابين اختلافات موجود ہيں - انہوں نے سعودي عرب کے ساتھ ايران کے تعلقات کے بارے ميں کہا کہا گذشتہ برسوں کے دوران ايران کي طرف سے دونوں ملکوں کے تعلقات  کو زيادہ سے زيادہ بہتر بنانے کي کوششوں کے باوجود افسوس کےساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان تعلقات ميں گرم جوشي کے بجائے سردمہري آئي ہے - انہوں نے کہا کہ ہم صديوں سے ايک دوسرے کے ہمسايہ ممالک ہيں اور آئندہ بھي رہيں گے اور اميد کرتے ہيں کہ تہران اور رياض کے تعلقات بہتر اور خوشگوار ہوجائيں گے -......./169