ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے بدھ کے روز ميانمار کے وزير خارجہ وونا مانگ سے ٹيليفون پر گفتگو ميں مطالبہ کيا کہ مسلمانوں کے قتل عام کا سلسلہ بند کيا جائے اور ان کے بنيادي حقوق کي بحالي کے لئے فوري طور پر ضروري اقدامات کئے جائيں-
ايران کے وزير خارجہ نے اس ٹيليفوني گفتگو ميں کہا کہ ميانمار ميں مسلمانوں کا قتل عام اور انہيں ابتدائي ترين انساني حقوق سے محروم کردينا کسي بھي طور قابل قبول نہيں ہے- انہوں نے کہا کہ يہ حکومت کا فرض ہے کہ روہنگيا مسلمانوں پر وحشيانہ حملے رکوائے اور ان کے حقوق بحال کرے - انہوں نے اسي کے ساتھ کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران رہنگيا مسلمانوں کے مسئلہ حل کرنے ميں ميانمار کے ساتھ تعاون کے لئے تيار ہے -
اقوام متحدہ نے بھي ميانمار ميں مسلمانوں کے قتل عام پر تشويش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کيا ہے کہ يہ سلسلہ بند کيا جائے- اقوام متحدہ کے انساني حقوق کميشن نے بدھ کے روز ايک بيان جاري کرکے حکومت ميانمار کو خبردار کيا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کے بہانے روہنگيا مسلمانوں کو ملک سے نکالنے سے باز رہے - اس بيان ميں ميانمار کے حکام کے اس بيان پر تشويش ظاہر کي گئي ہے جس ميں انہوں نے روہنگيا مسلمانوں کو غير قانوني مہاجر کہا ہے -
قابل ذکر ہے کہ ميانمار ميں مسلمانوں پر انتہا پسند بدھسٹوں کے وحشيانہ حملوں کي تازہ لہر ميں تين سو سے زائد مسلمان جاں بحق اور دسيوں ہزار بے گھر ہوچکے ہيں-
.....
/169