ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ باطل نظام کے خلاف قیام کی جدوجہد میں عوامی رابطہ مہم کی ذمہ داری جس شخصیت کے ذمہ لگائی گئی وہ حضرت مسلم بن عقیل بن ابی طالب تھے۔ حضرت مسلم بن عقیل نے حقیقی اسلام کے سفیر کا کردار ادا کیا۔ کیونکہ وہ جس ہستی کے حکم پر مدینہ سے کوفہ کی طرف امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے کے لئے روانہ ہوئے وہ ہستی (امام حسین ) دین اسلام اور شریعت محمدی ۖ کے دفاع اور تحفظ کے لئے کمربستہ تھی اور حضرت مسلم بن عقیل نواسہ رسول ۖ کے شانہ بشانہ اس جہاد میں شریک تھے اور اپنی شہادت کے ذریعہ واقعہ کربلا کی بنیادیں استوار کرگئے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حضرت مسلم بن عقیل وفاشعاری اور شجاعت و بہادری کا پیکر تھے۔ آپ نے وفا کے جذبے کا ایسا مظاہرہ کیا جیسے حضرت علی نے پیغمبر اکرم ۖ کے ساتھ وفاشعاری کی زندگی بسر فرمائی تھی۔ اور حضرت علی کی طرف ہی جنگی مہارتوں اور شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے جب کوفہ کے گلی اور کوچوں میں آپ کو یذیدی افواج نے گھیر لیا۔ شدت پیاس اور بے یارومددگار ہونے کے باوجود حضرت مسلم بن عقیل ہزاروں شامی فوجیوں کے مقابل تنہا ہوکر بھی مردانہ وار لڑے۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ آپ کی زندگی کے مطالعہ سے جہاں ہمیں دین اور دین کے رہبروں سے وفا کا سبق ملتا ہے وہاں حکومتی دبائو میں آکر وفاداریاں بدلنے والے اور بیعت سے ہاتھ اٹھالینے والے چہرے بھی بے نقاب ہوتے ہیں یہ تاریخ کا ایک اہم اور تاریک باب ہیں جن سے عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے لہذا ہمیں حضرت مسلم بن عقیل کی طرح اسلام اور اسلامی اقدار سے عملی وابستگی' رہبر کی اطاعت' دین کے تحفظ اور قربانی کے جذبے کو زندہ رکھنا چاہیے اور دور حاضر کی یذیدی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کرنی چاہیے۔
.....
/169
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حضرت مسلم بن عقیل وفاشعاری اور شجاعت و بہادری کا پیکر تھے۔ آپ نے وفا کے جذبے کا ایسا مظاہرہ کیا جیسے حضرت علی نے پیغمبر اکرم ۖ کے ساتھ وفاشعاری کی زندگی بسر فرمائی تھی۔ اور حضرت علی کی طرف ہی جنگی مہارتوں اور شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے جب کوفہ کے گلی اور کوچوں میں آپ کو یذیدی افواج نے گھیر لیا۔ شدت پیاس اور بے یارومددگار ہونے کے باوجود حضرت مسلم بن عقیل ہزاروں شامی فوجیوں کے مقابل تنہا ہوکر بھی مردانہ وار لڑے۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ آپ کی زندگی کے مطالعہ سے جہاں ہمیں دین اور دین کے رہبروں سے وفا کا سبق ملتا ہے وہاں حکومتی دبائو میں آکر وفاداریاں بدلنے والے اور بیعت سے ہاتھ اٹھالینے والے چہرے بھی بے نقاب ہوتے ہیں یہ تاریخ کا ایک اہم اور تاریک باب ہیں جن سے عبرت حاصل کرنے کی ضرورت ہے لہذا ہمیں حضرت مسلم بن عقیل کی طرح اسلام اور اسلامی اقدار سے عملی وابستگی' رہبر کی اطاعت' دین کے تحفظ اور قربانی کے جذبے کو زندہ رکھنا چاہیے اور دور حاضر کی یذیدی قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کرنی چاہیے۔
.....
/169