ابنا: جارجیا کے دارالحکومت تفلیس کے مسلمان اس شہر میں مساجد کی کمی پر پریشان ہیں اور اس وقت تفلیس میں فقط ایک مسجد موجود ہے جس کی وجہ سے شیعہ اور سنی باہم مل کر اس مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔ شیعہ اور سنی مسلمان اس مسجد میں علیحدہ علیحدہ نماز پڑھتے ہیں اور کچھ مشکلات کی وجہ سے شعیہ اور سنی مسلمان ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں لیکن جارجیا میں مسلمانوں کے امور کے سربراہ شیخ علاء علییف ان دونوں گروپوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اس مشکل کو بر طرف کر دیا ہے۔شیخ علاء علییف نے کہا ہے کہ اس مسجد کے خطیب بننے سے پہلے ان امور کو انجام دینا انتہائی سخت تھا کیونکہ شیعہ اور سنی مسلمان مسجد کے الگ الگ دروازوں سے مسجد میں داخل ہوتے تھے اوراپنے اپنے اعتقادات کی بنا پر الگ الگ نماز پڑھتے تھے۔انہوں نے مزید کہا ہے کہ میں نے نماز کے خطبوں میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دلوں کو ایک دوسرے کے نزدیک کریں اور شیعوں اور اہل سنت کے درمیان موجود مشکلات کو بر طرف کریں تو سب نے ان کے مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ تفلیس میں اس وقت ۳۵ہزار مسلمان آباد ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ اسلامی ممالک اس شہر میں مساجد کی تعمیر کے لیے مدد کریں گے۔
.....
/169