اہل البیت (ع) نبوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بلاد الحرمین کے دوجزیروں پر 1967 سے اب تک یہودی ریاست کا قبضہ ہے لیکن سعودی حکمران نہ صرف ان جزیروں کو غاصب اسرائیلی ریاست سے لوٹانے کے بارے میں کبھی نہیں سوچتے بلکہ ان کے بارے میں کسی سے کچھ سن کر بھی سیخ پا ہوجاتے ہیں؛ تاہم سیدحسن نصر اللہ نے مقبوضہ فلسطین میں اپنا ڈرون بھجوانے اور آل صہیونی کو ایک بار پھر عالمی سطح پر رسوا کرنے کی داستان سنانے کے ضمن میں آل سعود سے کہا کہ وہ بحرین میں مداخلت کے بجائے اپنے جزیرے صہیونیوں سے آزاد کرنے کے لئے کیوں کوئی اقدام نہيں کرتے۔ واضح رہے کہ غاصب صہیونی ریاست نے برسوں پہلے بلادالحرمین کے ایک حصے پر ایسے حال میں قبضہ جمایا ہوا ہے کہ حتی مقدس سرزمین کے عوام کی اکثریت کو اس کے بارے میں کوئی علم نہيں ہے اور آل سعود نے بھی آج تک ان کی آزادی کے لئے کوئی اقدام نہيں کیا ہے۔ "جزیرہ التیران" سرکاری طور پر "بلادالحرمین کا حصہ ہے جو آبنائے التیران کی دہلیز پر واقع ہے اور خلیج عقبہ کو بحر احمر سے الگ کرتا ہے اور اس کا رقبہ اسی کلومیٹر مربع ہے۔ یہ جزیرہ "جزیرہ صنافیر" کے ہمراہ ـ جس کا رقبہ 33 کلومیٹر مربع ہے ـ 1987 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ سے قبل ملک فیصل کی طرف سے مصر کے قوم پرست صدر جمال عبدالناصر کے سپرد کئے گئے تھے تا کہ مصر ان جزائر سے صہیونی ریاست کے خلاف جنگ کے دوران استفادہ کرسکے۔یہ دو جزیرے جو بحر احمر کے شمال میں واقع ہیں۔ بلادالحرمین (سعودی عرب)، اردن، صہیونی ریاست اور مصر خلیج عقبہ زون کو تشکیل دیتے ہیں۔ مصر اور بلادالحرمین آبنائے تیران کے دوساحلوں پر واقع ہیں۔ خلیج عقبہ واحد راستہ ہے جہاں سے صہیونی ریاست بحراحمر تک رسائی پا سکتی ہے۔ اس وقت غاصب ریاست نہ صرف جزائر "التیران اور الصنافیر" پر قابض ہے بلکہ عملی لحاظ سے آبنائے التیران پر بھی اسی ریاست کا کنٹرول ہے۔ دو جزائر "تیران" و "صنافیر" پر صہیونی قبضے کی کیفیتچھ روزہ جنگ میں مصر اور دوسرے عرب ممالک کی شکست کے بعد یہ دو جزيرے بھی صہیونی ریاست کے قبضے میں چلے گئے اور 11 مہینے بعد سنہ 1968 میں اس وقت سعودی بادشاہ فیصل ـ جو اس وقت امریکہ میں آل سعود کے سفیر تھے ـ کو معلوم ہوا کہ ان کے ملک کے دو جزیروں پر اسرائیل کا قبضہ ہوچکا ہے!!! اور امریکی وزارت خارجہ کو ایک نوٹ لکھ کر ان جزیروں پر اسرائیلی قبضے پر احتجاج کیا اور پھر بات ٹھنڈی پڑگئی حتی کہ فیصل بادشاہ بنے اور پھر اپنے بھتیجے "قاتل فيصل بن مساعد بن عبدالعزيز" کے ہاتھوں قتل ہوگئے اور خالد بن عبدالعزیز بادشاہ بنے اور 1979 میں سابق مصری آمر انورالسادات نے کیمپ ڈیویڈ معاہدے پر دستخط کردیئے۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل کو صحرائے سینا اور ان دو جزیروں سے نکلنا تھا اور ان میں بین الاقوامی امن فورسز کو تعینات ہونا تھا تا کہ مصر اور صہیونی ریاست کا جھگڑا ختم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے ان جزائر میں بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی پر اصرار ہی نہیں کیا اور صہیونی فورسز ـ جو صحرائے سینا سے نکل چکی تھیں ـ ان جزائر پر بدستور قابض رہیں اور آل سعود نے بلادالحرمین کے اس حصے پر اسرائیلی قبضے کو گویا تسلیم کیا تھا یا ان جزیروں کو کسی خفیہ ڈیل کے تحت اسرائیل کے پاس رہنے دیا۔ مصر نے بھی صہیونی ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کے دوران یہ دو جزیرے واپس لینے کے لئے کوئی کوشش نہيں کی کیونکہ ـ اگرچہ سعودی سفیر نے یہ دوجزیرے مصر کے حوالے کئے تھے لیکن مصری آمر انورالسادات کا خیال تھا کہ ان دو جزيروں کا مصر سے کوئی تعلق نہيں ہے بلکہ یہ دو جزیرے سرزمین حجاز کا حصہ ہیں چنانچہ آل سعود کو یہ دو جزیرے واپس لینے کے لئے از خود اقدام کرنا چاہئے۔تا ہم دنیا نے دیکھا کہ خادم الحرمین کہلوانے پر اصرار کرنے والے سعودی حکمرانوں نے یہ در جزیرے مقدس سرزمین میں لوٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔آل سعود سے وابستہ بعض مبصرین حکمران خاندان کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دینے کی غرض سے، موقف اختیار کرتے ہيں کہ یہ دو مرجانی جزیرے (Coral Islands) ریاض کے لئے کچھ زيادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ لیکن یہ بہانہ اتنی وقعت نہیں رکھتا جس کو سند و دلیل قرار دیا جاسکے کیونکہ یہ درست ہے کہ ان میں نہ تو پانی ملتا ہے اور نہ ہی تیل لیکن یہ فوجی اور تزویری لحاظ سے نہایت اہم جزیرے ہیں اور سوال یہ بھی ہے کہ جو جزیرے آل سعود کے لئے زيادہ اہم نہيں ہیں وہ صہیونی ریاست کے لئے کیوں اہم ہیں؟! یہ دو جزیرے اتنے اہم ہیں کہ انہیں اگر خلیج عقبہ کا دروازہ قرار دیا جائے تو یہ بےجا نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ استدلال حقیقت سے قریب تر ہے کہ آل سعود کی خاموشی کا سبب سعودی حکمرانوں کے یہ اندیشے تھے کہ دنیا اور بطور خاص عرب اور اسلامی دنیا میں ان کی جگ ہنسائی ہوگی کہ یہ کس طرح کے خادمین حرمین ہیں جو مقدس سرزمین کا تحفظ کرنے سے عاجز ہیں؛ 11 مہینوں تک جزائر پر اسرائیلی قبضے کے بعد انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ گویا یہ جزائر اسرائیلی قبضے میں چلے گئے ہیں اور پھر کیمپ ڈیویڈ معاہدے پر دستخط مصر کے صدر نے کئے اور مقدس سرزمین کے دو جزیرے آل سعود نے اقوام متحدہ اور درحقیقت اسرائیل کے حوالے کردیئے ہیں!! اور سعودی اندیشوں کی بنیاد یہ تھی کہ مسلمانان عالم سرزمین حجاز کو بہت زيادہ مقدس اور نزول وحی کا مقام سمجھتے ہیں اور اگر یہ واقعہ ذرائع ابلاغ میں پہنچـے تو یہ واقعہ ایسے مطلق العنان بادشاہی خاندان کی شرمندگی اور خجلت کا سبب بنے گا جو خدمت حرمین کے ساتھ ساتھ عالمی اسلام کی قیادت و پیشوائی کا دعوی بھی کررہا ہے!! اور اگر اس واقعے کی تشہیر ہوئی تو مسلمان اپنے مقدسات کے تحفظ کے حوالے سے آل سعود کے کردار پر انگلی اٹھانے کا موقع ملے گا اور سعودی خاندان کی عزت بازاروں میں نیلام ہوجائے گی۔ لیکن لگتا یوں ہے کہ یہ استدلال بھی پوری حقیقت کو واضح نہيں کرسکتا کیونکہ اس سلسلے میں ایسے باریک نکات بہت زیادہ ہیں جن کو آج تک توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہيں کی کی گئی بلکہ ان رازوں کو مسلسل پس پردہ رکھنے کے لئے سرمایہ کاریآں ہیں۔ نکتے کچھ یوں ہیں:٭ سعودی سرحدی فورسز اپنے ملک کے ماہی گیروں کو "حقل" نامی چھوٹے گاؤں اور تیران اور صنافیر میں مچھلیاں پکڑنے کی اجازت کیوں نہیں دیتیں؟٭ کیا یہ نہیں کہنا چاہئے کہ آل سعود کی حکومت آبنائے تیران میں صہیونی ریاست کی سلامتی کا تحفظ کررہی ہے؟٭ اسحق رابین کا پرانا خواب تھا کہ اسرائیل اور آل سعود کے درمیان ایک امن معاہدہ منعقد ہو اور اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح کا کوئی معاہدہ ابھی تک ہوا نہيں ہے؟ ٭ کیا آل سعود نے آبنائے تیران کے راستے آل صہیون کے تیل کے ذخائر پر کرنے کا بیڑا نہيں اٹھایا ہے؟صہیونی ریاست کیا کہتی ہے ان جزائر کے بارے میںسعودی حکمرانوں کی طرف سے مقبوضہ جزائر کے موضوع پر طویل خاموشی ـ ممکن ہے کہ ـ سعودی صہینی خفیہ ڈیل پر استوار ہو کیونکہ غزہ پر صہیونی حملے سے ڈیڑھ سال قبل آل سعود نے "رأس شیخ الحمید" کے علاقے سے مصر کے شہر "شرم الشیخ" تک ایک پل تعمیر کرنے کا عندیہ دیا جس پر آل صہیون نے زبردست رد عمل ظاہر کیا۔ حتی کہ صہیونی ریاست کی سیکورٹی و فوجی ویب سائٹ "دیبکا" نے اعلان کیا کہ اس پل کی تعمیر مشرق وسطی میں ایک بہت بڑے فوجی تنازعے کے اسباب فراہم کرسکتی ہے۔ دیبکا نے اس منصوبے کے خطرناک پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سعودی حکمرانوں کو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کا حوالہ دیا تھا اور لکھا تھا: "1967 کی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب مصر کے اس وقت کے صدر جمال عبدالناصر کی طرف سے آبنائے تیران کو اسرائیلی بحری جہازوں کے لئے بند کردیا گیا"۔ آل سعود کا یہ پل پچاس کلومیٹر طویل تھا جس پر تین ارب ڈالر سے زائد لاگت آنی تھی اور اس منصوبے کو تین سال کے عرصے میں مکمل کیا جانا تھا۔ لیکن کئی سال گذرنے کے باوجود اس منصوبے پر عمل درآمد ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ آل سعود کی حکومت اتنی بڑی تاریخي و دینی رسوائی کے باوجود بحرین کو اپنی سرزمین کا حصہ بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ کئی مہینے قبل ـ اور وہ بھی آل سعود اور آل خلیفہ کی طرف سے بحرین پر سعودی قبضے کا جواز فراہم کرنے کے لئے کئی مہینوں سے راستہ ہموار کرنے کے بعد ـ آل خلیفہ حکومت کے ایک اعلی اہلکار نے ذرائع کو بتایا کہ "بحرین کی حکومت نے اس ملک کے سعودی عرب کے ساتھ الحاق کے سعودی بادشاہ کے منصوبے سے اتفاق کرلیا ہے اور اس کے بعد خلیج فارس تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں یہ منصوبہ بحث کے لئے پیش کیا گیا لیکن رکن ممالک نے وقتی طور پر اس پر غور کو ملتوی کرلیا لیکن یہ منصوبہ مذکورہ کونسل کے ایجنڈے سے خارج نہيں کیا گیا۔ لگتا ہے کہ اب جو آل سعود کی حکومت اسرائیل سے اپنے مقبوضہ جزائر واپس لینے میں ناکام ہوچکی ہے ان جزائر کے بجائے بحرین پر قبضہ کرکے اور اس ملک کو ان جزائر کے متبادل کے طور پر اپنی سرزمین میں شام کرنا چاہتی ہے!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110