15 اکتوبر 2012 - 20:30

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح( بروز منگل) شمالی خراسان صوبے کے انتظامی حکام اور ممتاز و ماہرشخصیات کے عظیم اجتماع سے خطاب میں حکام کی طرف سے عوام کی بے لوث خدمت کو اللہ تعالی کی عظیم نعمت قراردیا اور ایران پر دباؤ کی علت کے بارے میں مغربی ممالک اور ان کے ذرائع ابلاغ کےسیاسی اور تبلیغاتی مکر و فریب اور پروپیگنڈوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مغربی ممالک کی مسلسل اور مکرر جھوٹی تبلیغات کے برعکس ہم نے گوناگوں مسائل منجملہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں مذاکرات کی میز کو ترک ہی نہیں کیا کہ اس کی طرف واپس لوٹیں ۔ وہ درحقیقت ایرانی قوم کو سرتسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہےہیں لیکن ان کی اتنی ہمت اور حیثیت نہیں ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کی خدمت کو حقیقی افتخار قراردیتے ہوئے فرمایا: اہل معرفت بزرگ ذکر و عبادت و توکل پر فراواں تاکید کے ساتھ  عوام کی خدمت کو دیگر عبادات پر ترجیح بھی دیتے تھے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دین و ثقافت اور اقتصاد کے میدانوں میں عوام کی خدمت کرنے والےملک کے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور حکام کو اس عظيم نعمت پر اللہ تعالی کا شکر بجا لانے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: تمام افراد کی یکساں طور پر خدمت کریں  کسی کے درمیان فرق کے قائل نہ ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام کی خدمت میں بلند اور دوچنداں ہمت کو اللہ تعالی کی مزيد برکات کا موجب قراردیتے ہوئے فرمایا: دوچنداں ہمت کے لئے دوچنداں اور مضاعف کام کرنے کی ضرورت ہے اور مضاعف کام صرف زیادہ کام کرنے میں خلاصہ نہیں ہوتا بلکہ دقیق، منظم ، مسلسل ، منصوبہ بندی ،مشاورت اور باکیفیت کام کے ہمراہ ہوتا ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کام و تلاش کی نسبت ملک کی اہم ضرورت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  دشمن جب بھی ملک میں ضعف و کمزوری محسوس کرتا ہے تو اسے جذبہ مل جاتا ہے اور وہ دباؤ اور یلغار کے لئۓ آمادہ ہوجاتا ہے اور جب وہ ملک میں  ‏عظیم کام اور حرکت کو مشاہدہ کرتا ہے تو وہ مایوس ہوجاتا ہے اور اس کام کے خلاف اپنا پروپیگنڈہ شروع کردیتا ہے۔لہذا ملک کےتمام افراد بالخصوص حکام اور انتظامی اہلکاروں  کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں جذبہ امید و نشاط کو مضبوط بنانے کے ساتھ پیہم و مسلسل کام و تلاش اور جد وجہد جاری رکھیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  جو کام اور اقدام بھی مایوسی،تھکاوٹ اور اختلاف پر مبنی ہو بیشک وہ قومی عزت و پیشرفت اور ملکی مفادات کے خلاف ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےدشمنوں کی سازشوں، دھمکیوں،  دباؤ اور اقتصادی پابندیوں کے باوجود گذشتہ 33 برسوں میں ایران کی دسیوں گنا پیشرفت  کو ملک کی اندرونی، طاقت، قدرت  اور حقیقی تعمیری حرکت کا مظہر قرار دیتے ہوئے فرمایا: اس واضح اور روشن حقیقت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ہم دشمن کے مقابلے میں خالی ہاتھ نہیں ہیں اور ہم دشمن پر غلبہ پیدا کرسکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دنیا کی منہ زور سامراجی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کی اچھی پیشرفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن کے ساتھ پیکار کا ایک مرحلہ بین الاقوامی سطح پر اس کی باتوں کا مقابلہ کرنا ہے اور ایرانی حکام آج مذاکرات کی میز پر اور مختلف و گوناگوں محفلوں اورٹریبون پر پختہ، جامع اور صحیح بات کرتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغرب اور یورپ کے اکثر میڈيا اور ذرائع ابلاغ پر صہیونیوں کے قبضے اورمسلط ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: صہیونیوں کے زیر اثر ذرائع ابلاغ اس طرح خبر بناتے اور اس کو سمت و سو دیتے ہیں کہ مغربی ممالک کے سیاستداں بھی ان کی خبروں اور باتوں کے مکر و فریب میں آجاتے ہیں اور یہ ایک  اہم نکتہ ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نےمغربی اور صہیونی ذرائع ابلاغ میں رائج تبلیغات اور پروپیگنڈہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہ ایران کے خلاف اس طرح پروپیگنڈہ اور جھوٹی خبر بناتے اور کہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر پابندیوں اور دباؤ کا مقصد ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لئے ہے لیکن ہم نے گوناگوں مسائل منجملہ ایٹمی مذاکرات کے بارے میں مذاکرات کی میز کب ترک کی تھی کہ اب ہم اس کی طرف واپس آجائیں؟

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس  قسم کے پروپیگنڈوں اور تبلیغات  کے فارمولےکا مقصد ایرانی قوم کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ وہ ایران کی بصیر ، آگاہ اور مجاہد قوم کو اپنے غیر منطقی مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: یورپی حکام ابھی بھی اسی طرح انیسویں صدی کی فضا اور سامراجی منہ زوری کی حالت میں ہیں اور انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی قوم اور حکام ان کی منہ زوری کے سامنے ہرگز سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور انھیں اسی طرح فراواں مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اندرونی استحکام کو ظاہری قوت و طاقت کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا:  آج اسی استحکام کی بنا پراسلامی جمہوریہ ایران کی عوامی حکومت اور منہ زور طاقتوں کے مقابلے کے سلسلے میں ایران کی نئی باتیں علاقائی قوموں کی تحریکوں  پر اثرانداز ہورہی ہیں اور اسی مسئلہ نے دشمن کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یہ سلسلہ جاری رہےگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں شمالی خراسان کے صوبے کے حکام اور اعلی اہلکاروں کومنصوبہ بندی اور صوبے کی عام صورتحال کے ارتقاء اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مسلسل تلاش و کوشش جاری رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: شمالی خراسان صوبے کے قدرتی وسائل اور ظرفیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ حکام کی منصوبہ بندی ، تلاش و کوشش اور عوام کی ہمراہی کی بدولت یہ صوبہ ملک کے دس ممتاز صوبوں کی فہرست میں شامل ہوسکتا ہے اور شمالی خراسان کے مؤمن اور صادق عوام کے لئے باعزت زندگی کے اسباب فراہم ہوسکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے منصوبہ بندی اور طے شدہ اہداف تک پہنچنے کے لئے ٹائم ٹیبل مشخص کرنے کو صوبے کی پیشرفت کے لئے ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: صوبے کےموجودہ وسائل و امکانات کے پیش نظر زراعت بھی صوبے کی ایک اہم ترجیح ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے زرعی زمینوں کو یکساں بنانے کو صوبے کی پیشرفت کے لئے مؤثر قدم قراردیتے ہوئے فرمایا: زراعت و باغات  کا صنعتی اور پیشرفتہ ہونا ، اور تجارت کے لئے اسے نئی صنعت میں تبدیل کرنے سے صوبے کو دوچنداں ترقی ملے گي۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صوبے میں سیاحت کی فراواں ظرفیت، تحقیقاتی  مسائل پر توجہ اور شمالی خراسان صوبے کا امام رضا (ع) کے کئي ملین زائرین کے راستے میں واقع ہونے کو صوبہ کی دیگر ظرفیتیں قراردیا جن کے ذریعہ صوبہ کو درپیش مشکلات کو برطرف کیا جاسکتا ہے۔

اس ملاقات کے آغاز میں مندرجہ ذیل افراد نے اپنے نظریات پیش کئے:

٭ ڈاکٹر عاشوری- فردوسی یونیورسٹی مشہد کے سربراہ، اور ملک کے ممتاز استاد

٭ محمود اسدی- بجنورد اصناف کونسل کے سربراہ

٭ گلدی آخوند کمالی-  شمالی خراسان صوبہ کے اہلسنت کی ممتاز شخصیت

٭ ڈاکٹر جعفری- پارلیمنٹ کے نمائندے

٭ ڈاکٹر حجت اللہ ربانی نسب- شمالی خراسان صوبے کے زراعتی تحقیقاتی  سینٹر کے سربراہ

٭ احمدی بیغش – شمالی خراسان صوبے کے گورنر

مذکورہ افراد نے مندرجہ ذیل نکات پیش کئے:

٭  اقتصادی، ثقافتی ، سیاسی اور سماجی میدانوں میں صوبے کے عوام کے حضور پر تاکید

٭ صوبائي سطح پر سریع تبدیلیوں پر تنقید

٭ بےروزگاری کے خاتمہ کے لئے منظور شدہ بجٹ مخصوص کرنے پر تاکید

٭  دشمنوں کی بد نیتی کے پیش نظر بازاریوں  اور اصناف کے ساتھ ہمراہی پر تاکید

٭ اجناس کی تقسیم و فراہمی کو مضبوط بنانے اور ایرانی اجناس کی فروخت پر تاکید

٭ رہبر معظم کے استقبال میں اہلسنت کی بھر پور شرکت

٭ شیعہ و سنی کے درمیان باہمی اتحاد و یکجہتی پر تاکید

٭ صوبے کی تعمیر و ترقی پر تاکید

٭ زراعت کے شعبہ میں سرمایہ کاری پر تاکید

٭ زراعت کے فوائد پر توجہ

٭ صوبہ کی ترقی کی جامع سند کی تدوین پر تاکید

٭ مہر ماندگار  اور مہر ہاؤسنگ کے پراجیکٹوں  کی تکمیل پر تاکید

٭ مواصلاتی راستوں کی تعمیر، پانی ، بجلی اور گيس رسانی کے منصوبوں کی تکمیل پر تاکید

.....

/169