اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عبری زبان کے جریدے "اسرائیل ڈیفنس" نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ سید حسن نصراللہ کی باتوں میں غور و تدبر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب انھوں نے زمین سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے لبنانی ساحل پر موجود اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنانے کا وعدہ دیا تو وہ میزائل بالکل اسی انداز سے اس جہاز کو لگا جس طرح کہ سیدحسن نے کہا تھا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی انھوں نے جو وعدے دیئے ان پر عمل کرکے دکھا چکے ہیں۔غلطی مت کرنا .. وہ جانتے ہیں کہ وہ کس چیز کے بارے میں بات کررہے ہیں۔۔ انہیں تمام تفصیلات کا علم ہے؛ اسی وجہ سے جب انھوں نے ڈرون کے بارے میں بات کی تو ان کی باتوں کوغور سے سننے کی ضرورت مزید نمایاں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ یہ پہلی بار نہيں ہے کہ اس طرح کے طیاروں نے اسرائیل کے آسمانوں میں پرواز کی ہے اور آخری بار بھی نہيں ہے بلکہ یہ پروازیں جاری رہیں گی۔ میں (اسرائیل ڈیفنس کا مدیراعلی) ان کی باتوں کی صحت کی تصدیق کرتا ہوں۔ حزب اللہ نے ایک ویڈیو بھی نشر کی ہے جو اس ڈرون کی پرواز کے روٹ کو واضح کررہی ہے اور ہر کم تجربہ کار ماہر بھی جانتا ہے کہ اس ڈرون کا مشرق کی جانب مڑنے سے قبل ہی سراغ لگایا جانا چاہئے تھا۔دریں اثناء صہیونی ٹیلی ویژن کے چینل 10 نے صہیونی آبادکاروں کو دلاسا دینے کے لئے دعوی کیا ہے کہ اس نے ایک نیا راڈار بنایا ہے جو حزب اللہ کے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لئے اسرائیل کی طاقت میں اضافہ کرے گا!!چینل 2 نے اعلان کیا کہ مغربی کنارے کے جنوب میں مارگرائے جانے والے "ایوب" نامی ڈرون کے بارے میں تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایرانی ساختہ ڈرون تھا۔ اور یہ کہ یہ ڈرونز خاص قسم کی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں اور یہ جاسوسی مشن پر جاکر ویڈیو تصاویر اپنے مرکزی اسٹیشنز میں بھجوا سکتے ہیں۔ .....
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: