ابنا: سکھر ..... مجلس وحدت مسلمین کے مر کزی سیکریٹری برائے امور خا رجہ آغا علامہ شفقت حسین شیرازی نے کہا ہے کہ طالبانا ئیزیشن کسی فرقے کا نہیں بلکہ پاکستان کا مسئلہ ہے جس پر اب کنٹرول ہونا چاہیئے ہماری خا رجہ پا لیسی میں ملک کی نہیں سیاستدا نوں کی مصلحت شامل ہے سکھر میں پریس کا نفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے انہوں نے مزید کہا کہ غلط پا لیسیوں کی وجہ سے تعصب اور مذہبی دہشت گردی پھیلی ہے اور ایک گروہ کو خا ص طر یقے سے بڑہا وا دیا گیا ہے جس کی وجہ سیوہ اب پا کستان کے لیے خطرہ بن گیا ہے اگر فو ری طور پر سیاست دانوں کو اس کا خیال نہ آیا تو ملک میں توازن نہیں ہو گا ہم ملک میں خانہ جنگی نہیں چاہتے امن و امان چا ہتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ دنیا سے امریکہ تسلط ختم ہو رہا ہے حکمرانوں نے پا کستان کو فرو خت کر رہے ہیں ہمارے ملک میں ایسے کئی علا قے ہیں جہاں پر غیر ملکیوں کا قبضہ ہے انہوں نے کہا کہ دنیا میں تبدیلی آرہی ہے ان حا لا ت میں پا کستان کو بھی امریکہ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہو گاانہوں نے کہا کہ شام میں طالبان وہاں کی حکو مت کو ختم کر نے کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کرکام کر رہے ہیں اور یہاں پر وہ مذہب کو بد نام کر رہے ہیں اس مو قع پر مجلس وحد ت مسلمیں کے مر کزی سیکریٹری فلاح و بہبودنثار فیضی نے بتا یا کہ مجلس وحدت مسلمین کے خیر العمل فا ؤں دیشن نے گذشتہ تین سا لوں سے سیلاب و با رشوں سے متا ثر ہو نے والے علا قوں میں تعمیر وطن پر وگرام کے تحت چالیس کر وڑ رو پے کی امدادتقسیم کی ہے اور وہاں پر تعمیر نو اور بحالی کے حوا لے سے مکا نا ت کی تعمیر ، مسا جد و اسکو لوں اور ڈسپنسریز کی تعمیر کی ہے اور اب ان کے لیے ہا ؤسز کی تعمیر کا پروگرام بھی شروع کیا ہے دوسری جانب سوات میں دہشت گردوں کی فا ئرنگ میں زخمی ہو نے والی ملالہ یو سف زئی کی صحتیا بی کے لیے سکھر میں دعائیہ تقا ریب کا سلسلہ جا ری ہے سکھر کے سینٹ سیو ئیر اسکول میں اس سلسلے میں ایک دعائیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں اسکو ل کے طلبا ء و طا لبات نے ملا لہ یو سف زئی کی صحتیا بی کے لیے دعا کی اس مو قع پر طلباء و اساتذہ نے خطاب کر تے ہو ئے کہا کہ ملالہ یو سف زئی امن کی پیا مبر تھیں جن پر حملہ کر کے ملک میں امن کے لیے کام کر نے والوں کو ان کی جد جہد سے رو کنے کی کوشش کی گئی ہے حکو مت کو اس طرف فوری توجہ دینا چا ہیئے اور ملالہ یو سف زئی پر حملہ کر کے انہیں زخمی کر نے والے ملزمان کو گرفتار کیا جائے.
.....
/169