13 اکتوبر 2012 - 20:30

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےشمالی خراسان صوبے کےدورے کے چوتھے دن اسفرائن اور دارالقرآن ضلع میں ہزاروں افراد کے عظيم الشان اجتماع سے خطاب کیا جو تختی اسٹیڈیم میں کئی گھنٹوں سے رہبر معظم انقلاب اسلامی کا انتظآر کررہے تھے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسفرائن کے عوام کے عظیم اجتماع میں شوق و نشاط کی راہوں کی حفاظت  اور ملک کی پیشرفت و ترقی کی راہ پر گامزن رہنے کے لئے قومی خود اعتمادی اور عدالت کے دو اہم عناصر کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: آج ایرانی قوم کے اندر قدرت اور توانائی کا احساس  ہے اور وہ ملک کی پیشرفت کے سلسلےمیں دشمن کے ارادوں  کے ساتھ  جنگ میں مشغول ہے اور ارادوں کی جنگ  میں جو چیزیں فیصلہ کن ثابت ہوں گی وہ پختہ عزم و مستحکم ارادے کی حفاظت، بصیرت، ہوشیاری، عوام اور حکام کے درمیان اتحاد ویکجہتی، ذمہ داریوں کی شناخت، مغرور نہ ہونا اور دشمن کے مکر و فریب سے غافل نہ ہونا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شوق و نشاط اور طاقت کو ایرانی عوام کی پیشرفت کے لئے اہم قراردیتے ہوئے فرمایا: اس عظیم سرمایہ کی حفاظت کرنی چاہیے اور مختلف قسم کے عوامل کو اسے کمزور بنانے اور نابود کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عوام بالخصوص جوانوں میں ناامیدی اور مایوسی  پھیلانے کو مغربی میڈیا کا اصلی ہدف قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کے دشمن اچھی طرح جانتے ہیں شوق و نشاط اور شادابی  در حقیقت کام و تلاش اور جد وجہد کا باعث بنتی ہے لہذا وہ اس شوق و نشاط کو سلب کرکے اور مایوسی کی فضا پیدا کرکے ملک کو پھر پسماندگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: دفاع مقدس کے شہیدوں اور کمانڈروں  نےسخت اور دشوار شرائط میں میدان میں حاضر ہو کر ملک و قوم کا دفاع کیا اور انکی یاد شوق و نشاط کے موار د میں شامل ہے جو موجودہ جوان نسل میں شوق و نشاط کو دوچنداں کرسکتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے جوانوں میں شوق و نشاط و شادابی کے سلسلے میں منشیات کے موضوع  کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: بین الاقوامی خوفناک مافیا ، ملک میں منشیات کی تقسیم اور جوانوں پر نشہ کی عادت مسلط کرنے کی تلاش میں ہے اور اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے متعلقہ حکام کی کوششوں کے ساتھ جوانوں میں شوق و نشاط اور شادابی کا جذبہ پیدا کرنا بھی اہم اور مؤثر ثابت ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں پیشرفت اور ترقی کے سلسلے کو جاری رکھنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ترقی اور پیشرفت کی کوئی حد نہیں ہے اور اس میدان میں اتنی ترقی حاصل کرنی چاہیے تاکہ ایرانی قوم مختلف اور گوناگوں میدانوں میں دوسروں کے لئےبہترین نمونہ عمل بن جائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ہدف اور مقصد تک پہنچنے کو ممکن قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن اپنے پیچھے چلانے کے لئے ہمیشہ تحقیر و مایوسی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ ایرانی قوم مختلف ادوار میں نمونہ عمل بن کر آگے ہی  رہی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: ایرانی جوانوں کی ہمت و تلاش کے ذریعہ ایرانی قوم یقینی طور پر پھر اس مقام تک پہنچ جائےگی اور جیسا کہ میں نے یونیورسٹی کے ممتاز ماہرین سے خطاب میں تاکید کی کہ ایران ،جوانوں کی تلاش و کوشش کے ذریعہ اس مقام تک پہنچ جائے جہاں ہر فرد جو نئی علمی و سائنسی تلاش میں ہووہ فارسی زبان سیکھنے پر مجبور ہوجائے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: ثقافتی ، سیاسی، سائنسی ماہرجوانوں کوچاہیے کہ وہ  ایسے مستقبل کو حتمی اور یقینی سمجھیں اور اس تک پہنچنے کے لئے منصوبہ بندی اور جد و جہد اور تلاش کریں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلام کے مد نظر ترقی کی تشریح کرنے کے بعد ملک کی ترقی و پیشرفت کے معیاروں کے بارے میں تشریح فرمائی ۔

قومی عزت اور قومی خوداعتمادی پہلا معیار تھا جس کی طرف رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس معیار کو نظر میں رکھتے ہوئے ایرانی قوم نےبہت زيادہ پیشرفت حاصل کی ہے اور اگر آج ایرانی حکام بین الاقوامی سطح پر خود اعتمادی کے ساتھ بات کرتے ہیں تو وہ قومی خود اعتمادی کا مظہر ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: قومی خود اعتمادی کا جذبہ اسلام کی برکت سے پیدا ہوا ہے اور اسلام اور اس کے احکام پر جتنا عمل زیادہ ہوگا قومی خوداعتمادی کے جذبے میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوگا۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے عدالت کو پیشرفت کا ایک دوسرا معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا: اسلام کی منطق میں عدالت کے بغیر پیشرفت حقیقی پیشرفت نہیں ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک اور امریکہ میں مادی ترقیات کو ظاہری اورغیرحقیقی ترقیات قراردیتے ہوئے فرمایا: ایسی ظاہری ترقیات جن کے ہمراہ طبقاتی فاصلے موجود ہوں  یہ ترقیات درحقیقت  مغربی لیبرل ڈیموکریسی اور سرمایہ دارانہ نظام کے ذریعہ ملک چلانے کا مظہر ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عدالت کے سلسلے میں ملک کی پیشرفت میں عام وسائل کی تقسیم، بنیادی امور منجملہ سڑکوں کی تعمیر،علم کے فروغ،اور مختلف علاقوں میں ماہر افراد کے رشد و نمو کے سلسلے میں مساوی طور پر انجام پانے والے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر ملک کےشرائط کا اس معیار کے مطابق جائزہ لیں ، تو انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے کی نسبت اور بہت سے دیگر ممالک کی نسبت ہم نے کاقی پیشرفت حاصل کی ہے لیکن اگر ہم شرائط کا اسلامی نظریہ کے ساتھ موازنہ کریں تو موجودہ عدالت کا مطلوب نقطہ تک پہنچنے میں ابھی کافی فاصلہ باقی ہے۔

رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم آج ارادوں کی عظیم جنگ میں دشمن کے ساتھ نبرد آزما ہے اور اس میدان میں متعدد رکاوٹوں اور دباؤ کے باوجود کسی قیمت پر کمزوری اور ناتوانی کا احساس نہیں کرتی اورترقی و پیشرفت کی بلندیوں تک پہنچنے کے سلسلے میں اپنے مستقبل کو روشن اور درخشاں محسوس کرتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ارادوں کی عظیم جنگ میں فیصلہ کن عوامل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: عزم و ارادہ، بصیرت، ہوشیاری و بیداری،اتحاد و یکجہتی ، عوام اور حکام کے درمیان ذمہ داری کا احساس  اور اداروں کے درمیان باہمی تعاون وہ عوامل ہیں جو ایرانی قوم کو اس کے لائق اور سزاوار مقام تک پہنچا سکتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایرانی قوم کی ترقی و پیشرفت کو روکنے کے سلسلے میں دشمنوں کی وسیع پیمانے پر منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جس طرح  دشمنوں کی سازشیں انقلاب اسلامی کی کامیابی سے  لیکر اب تک ناکام ہوئی ہیں اس مرحلے میں بھی ان کی تمام سازشیں اور مکر و فریب ناکام اور شکست سے دوچار ہوجائیں گے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے گذشتہ 33 برسوں سے  ایرانی قوم کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے سلسلے میں انقلاب اسلامی کے دشمنوں کی ناکامی کو اسلامی نظام اور ایرانی قوم کی روز افزوں قوت و قدرت کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا:

البتہ اس موضوع کے سلسلے میں ہمیں مغرور نہیں ہونا چاہیے اور دشمن کے مکر و کید اور فریب سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: قوی اور مضبوط رہیں اور دشمن کو کمزور نہ سمجھیں  اور اس سے غافل نہ رہیں کیونکہ دشمن مختلف راہوں سے وارد ہونے کی تلاش کرتا ہے لہذا دشمن سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انتخابات میں شرکت کے سلسلے میں اسفرائن کے عوام کے پہلے رتبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک کے مستقبل اور اس کے ادارے کے بارے میں ذمہ داری کا یہ احساس اس علاقہ کے عوام کی بصیرت، آگاہی اور گرانقدر جذبے کا مظہر ہے اور ملک بھر میں اس جذبے کی تقویت اور حفاظت کرنی چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: البتہ آئندہ دنوں میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں کچھ مطالب مزید بیان کروں گا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کی پیشرفت کے سلسلے میں اندرونی وسائل کے وسیع استعمال کو بہت ہی اہم اور ضروری قراردیتے ہوئے فرمایا: اندرونی پیداوار اور اشیاء پر غیر ملکی اشیاء کو ترجیح دینا غلط بات ہے کیونکہ قومی پیداوار کی حمایت کے لئے اندرونی وسائل کا استعمال بہت ضروری ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر قومی پیداوار کی حمایت کی جائے تو بے روزگاری اور مہنگائی جیسی بہت سی اقتصادی مشکلات حل ہوجائیں گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے دوسرے حصہ میں  اسفرائن کے سفر پر اپنی مسرت اور خوشی کا اظہار کیا اور اس قدیمی ضلع کی ممتاز ثقافتی ، علمی اور تاریخی نیز دارالقرآن سے اس کی شہرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسفرائن اپنے اس درخشاں اور تاریخی ماضی کی بنا پر پھر عظیم اور نامور دانشوروں  کا مقام بن سکتا ہے جو ملک کے لئے قابل فخر ہوں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے حیوانات کی پرورش، صنعت اور زراعت کی ظرفیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: البتہ اس شہر میں بعض مشکلات بھی ہیں جو حکام کی ہمت و تلاش و کوشش کے ذریعہ حل ہونی چاہییں اور میرے سفر کا ایک مقصد یہی موضوع ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل اسفرائن کے امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین محمدیان نے رہبر معظم کو خوش آمدید کہا اور علاقہ کی اقتصادی، ثقافتی صورتحال اور بعض مشکلات کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

.....

/169