13 اکتوبر 2012 - 20:30

طالبان کو فری ہینڈ دیئے جانے کے باعث اب انھوں نے بچیوں کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے اور ایک طرف سے نیٹو اور امریکہ سے وابستہ طالبان وطن کے مستقبل کو تباہ کرنے کے لئے اسکولوں اور طالبات کو نشانہ بنا رہے ہیں تو دوسری طرف سے انھوں نے برسوں بعد کھلنے والی پاراچنار پشاور شاہراہ کو دوبارہ بند کرنے کے لئے حملوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دنوں پاراچنار میں خودکش کار دھماکے اور اس کے بعد پاراچنار سے پشاور جانے والے مسافروں پر راکٹ حملے اور فائرنگ کے بعد ـ جس میں تین افراد زخمی ہوئے تھے ـ اس بار ملک دشمن دہشت گردوں نے صدہ کے قریب درانی کے علاقے میں مسافر گاڑی پر فائرنگ کرنے کے بعد اس میں بیٹھی ہوئی طالبات پر تیزاب چھڑک کر طالبانی ثقافت کو مزيد اجاگر کیا ہے جبکہ حکومت کے فیصلے کے مطابق سڑک پر حملے کی صورت میں حملہ آور فریق کو بھاری جرمانے ادا کرنے پڑتے ہیں جس سے بظاہر حکومت نے دہشت گردوں کو مستثنی قرار دیا ہے۔ گاڑی پر فائرنگ اور بچیوں پر تیزاب چھڑکنے کے واقعے کے بعد پاراچنار میں شیعہ عمائدین نے اس بار کے مناسب اقدامات سے مایوس ہوکر سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ  اپنی منافقت ختم کرکے سوات میں "ملالئی" کیس کی طرح پاراچنار میں طالبان کے مظالم اور تیزاب کے حالیہ واقعہ کی بھرپور مذمت کرے اور اس انسانیت سوز ظلم میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنے کردار ادا کرے۔واضح رہے کہ کرم ایجنسی پاراچنار سے تعلق رکھنے والی ایم اے ایم ایس سی کی طالبات کوہاٹ میں ایم اے کا پرچے دینے کے بعد مسافر گاڑی میں پاراچنار جا رہی تھیں کہ لوئر کرم صدہ درانی کے قریب مسلح دہشت گردوں نے گاڑی روک کر مسافروں پر فائرنگ کر دی اور ساتھ ہی گاڑی میں سوار طالبات اور دیگر مسافروں کے چہروں پر تیزاب پھینک دیا۔ جس کے بعد تین طالبات شدید زخمی ہوگئیں اور انہیں علاج کے لئے ایجنسی ھیڈ کوارٹر ہسپتال پاراچنار پہنچا دیا گیا۔ اس المناک واقعے کے بعد کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور عوامی و سماجی حلقوں اور قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ ملالئے پر طالبان کے حملے کو مسلسل کوریج دینے والا میڈیا، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اگر سچ بول رہی ہیں اور اگر کوئی خاص قسم کا تعصب ان کے مد نظر نہيں ہے اور اگر وہ واقعی آزاد ہیں تو گذشتہ پانچ سال سے پاراچنار کے بچوں اور خواتین پر طالبان کے مظالم پر کیوں خاموش ہیں؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ سول سوسائٹی اپنی منافقت ختم کرکے سوات کی طرح پاراچنار میں طالبان کے مطالم اور تیزاب کے حالیہ واقعہ کی بھرپور مذمت کرے اور اس انسانیت سوز ظلم میں ملوث دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنے کردار ادا کرے۔ادھر مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ پاراچنار کی طالبات کے چہروں پر طالبان دہشت گردوں کی طرف سے تیزاب پھینکنا انسانیت کے ساتھ مذاق ہے۔ مجلس وحدت مسلمین نے اپنے بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جہاں ملالہ پر مسلح طالبان کے حملے کے خلاف آواز اٹھارہی ہے، ملک کے دیگر بے گناہ افراد اور طالبات پر ہونے والے ظلم و ستم کا بھی نوٹس لے۔علامہ اعجاز حسین بہشتی نے کہا کہ گذشتہ روز پاراچنار کی طالبات کوہاٹ امتحان دینے جارہی تھیں کہ طالبان نے ان کی بس کو روک کر ان کے چہرے پر تیزاب پھینک ڈالا، یہ جرم عظیم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملالہ پر حملہ ہو یا چہروں پر تیزاب پھینکنا یا بسوں سے اتار کر مارنا ان دہشت گردوں کی روز مرہ کے گھناؤنے جرائم کی داستاں ہے جس سے وطن عزیز کے امن و امان اور اتحاد بین المسلمین کے ان عظیم اہداف کو نقصان پہنچتا ہے چنانچہ حکومت فوراً ان دہشت گردوں کے گھناؤنے اقدامات کا نوٹس لے اور انہیں قرار واقعی سزا دے۔یہ حملہ اور اس سے پہلے لڑکیوں کے اسکولوں پر حملے، لڑکیوں کو سرعام کوڑے مارنے، زیر کنٹرول علاقوں میں لوگوں کو اپنے گھروں کے دروازے بند نہ کرنے دینے جیسے سینکڑوں جرائم سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبان ـ جو صرف اپنے آپ کو مسلمان اور اپنے بغیر دوسروں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں؛ جبکہ اسلام میں اور قرآن و سنت میں ہمیں کوئی بھی ایسا اشارہ نہيں ملتا کہ طالبان کا کوئی فعل بھی اسلامی ہے ـ اور ان کے مختلف ورژنز عالمی صہیونیت کے وفادار ہیں اور عالمی صہیونیت کی خدمت کررہے ہیں جس کی ایک مثال حال ہی میں سینکڑوں طالبان دہشت گردوں کی ترکی کے راستے شام منتقلی بھی ہے جہاں وہ القاعدہ اور دوسرے تکفیری گروپوں کے ساتھ مل کر اسرائیل مخالف محاذ مزاحمت کے خلاف لڑ رہے ہیں، اسی بات کی واضح دلیل ہے کہ ان کا اصل ہدف اسلام اور مسلمانوں کی نابودی، اسکولوں کو منہدم کرکے مسلم نسلوں کی تباہی، اور عالم اسلام پر صہیونیت کا غلبہ ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جس کو پاکستان کا ہر فرد کچھ عرصے میں سمجھ ہی جائے گا۔طالبان نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پشتون علاقوں میں تعلیم و تربیت کے تمام مراکز کو ہدف بنایا اور بہت سے علاقوں میں ان کو کامیابی بھی حاصل ہوئی اور دوسری طرف سے انھوں نے پشتون علاقوں کے امن کی ضامن پشتو ثقافت کا جنازہ نکال دیا۔  انھوں نے اپنے زير تسلط علاقوں میں پشتو ثقافت سے متعلق تمام ادارے تباہ اور نیست و نابود کردیئے، حجرہ کی چھٹی ہوگئی، خان اور ملک یا نمبردار وغیرہ گھروں میں دبک گئے اور ملا صاحب بھی یا طالبان میں شامل ہوا یا بھاگنے پر مجبور ہوا، چادر اور چاردیواری کی حرمت بھی گئی وہ لوگوں کو گھر کے دروازے مقفل نہيں کرنے دیتے اور ان کی ناموس کی حرمت بھی گئی کیونکہ اگر خدا نخواستہ کسی کی بچی کسی طالبان کمانڈر کو پسند آئی تو مزاحمت کا سیدھا مطلب سر عام ذبح ہونے کے لئے تیاری ہے چنانچہ ان کا زبردستی نکاح کرایا جانا معمول کی سی بات ہے۔پشتو ثقافت میں عورت پر حملہ کرنا عیب و عار و ننگ سمجھا جاتا ہے لیکن طالبان نے سر عام لڑکیوں کو کوڑے مار کر، بیرونی خواتین کے سر قلم کرکے اور بازاروں میں بم دھماکوں میں عورتوں کو مار مار کر یا پھر انہيں ٹارگٹ کرکے یہ حرمت بھی ختم کردی اور اب طالبان بحیثیت نام نہاد" جہادی تنظیم اسکولوں اور کالجوں کی لڑکیوں کو گولی مارنے یا پھر ان پر تیزاب چھڑکنے تک گر چکے ہیں حالانکہ وہ اپنے آپ کو بہترین مسلمان کے ساتھ ساتھ بہترین پشتون بھی سمجھتے ہیں۔ گو کہ قومیں نہ طالبان اور ان کے وہابیانہ اور صہیونیانہ کرتوتوں کو اور نہ ان کو پالنے والے حضرات اور اداروں کو بھولیں گی۔.........../110