اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی تجزیہ نگار "ابراہیم زعیر" نے کہا کہ امریکہ نے اپنے ایک اعلی کمانڈر کی سرکردگی میں 150 فوجیوں کی ایک ٹیم اردن کے دارالحکومت امان کے ایک فوجی مرکز میں تعینات کیا ہے جو مسلح دہشت گردوں کو تربیت دے گی اور شام کی تقسیم کے امریکی منصوبے پر عملدرآمد کرنے کی کوشش کرے گی۔ ابراہیم زعیر نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجیوں کی شامی سرحدوں کے قریب تعیناتی کا مقصد "شامی پناہ گزينوں کی امداد" بتایا گیا ہے جو ایک بے بنیاد بہانہ اور جھوٹ ہے۔ امریکہ بھی اب بعض یورپی اور عرب ممالک اور ترکی کی مانند شام میں براہ راست مداخلت کے راستے پر گامزن ہوگیا ہے تا کہ شام میں بیرونی مداخلت کا راستہ ہموار کیا جاسکے۔ انھوں نے کہا: اندرونی سطح پر شامی افواج کی پے درپے کامیابیوں کے بعد جہاں ترکی، بعض یورپی ممالک اور آل سعود و قطر نے شام کے خلاف سازشوں کا نیا مرحلہ شروع کررکھا ہے وہاں امریکہ بھی اپنے حلیفوں سے پیچھے نہ رہنے کے مقصد سے اپنی شام دشمن پالیسیوں کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔انھوں نے کہا: امریکہ کا اہم ترین مقصد شام کی تقسیم ہے تاہم شام کے عوام اور مسلح افواج آج پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہیں اور وہ امریکی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں اور امریکہ پر مہلک وار کرسکتے ہیں جبکہ امریکہ رد عمل دکھانے کا قابل بھی نہ رہے گا۔ ابراہیم زعیر نے آخر میں کہا: شامی عوام ـ خواہ وہ کسی بھی قوم، قبیلے، مذہب اور فرقے سے تعلق رکھتے ہوں کسی صورت میں بھی شامی قوم و سرزمین کو تقسیم نہيں ہونے دیں گے۔ مصری جماعت حزب الجیل کے سربراہ: امریکہ مصر کو چار امارتوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہےناجی الشہابی نے کہا کہ امریکہ مصر کو چار امارتوں یا ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ امریکیوں نے 1986 میں منظور کیا تھا جو 2008 میں امریکی وزارت دفاع کے ایک جریدے میں شائع ہوا۔ اطلاعات کے مطابق مصری سیاستدان اور الجیل پارٹی کے سربراہ ناجی الشہابی نے کہا کہ امریکہ مصر کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر کام کرنا شروع کیا ہے جس کے تحت ڈيلٹا کے علاقے میں اسلامی امارت، اسکندریہ میں عیسائی امارت، الصعید کے علاقے میں النوبیہ امارت اور سینا میں غزاوی فلسطینی امارت قائم کی جائے گی۔ انھوں نے کہا: یہ وہی امریکی منصوبہ ہے جو 1986 میں امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل میں منظور کیا گیا تھا اور 2008 میں امریکی وزارت دفاع کے ایک جریدے میں شائع ہوا تھا۔ الشہابی نے صحرائے سینا قبضے کی اسرائیلی دھمکی پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صہیونی ریاست کو کھوکھلا ڈھول قرار دیا اور کہا: مصری فوج علاقے کی طاقتور ترین فوج ہے اور روایتی ہتھیاروں کے لحاظ سے اسرائیلی فوج سے کہيں زيادہ طاقتور ہے؛ اسرائیل جو جنوب لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ سے عہدہ برآ نہيں ہوسکا ہے اور امریکہ بھی حزب اللہ سے شکست کھا چکا ہے تو ایسی صورت میں اسرائیل صحرائے سینا پر قبضے کی جرأت کیونکر کرسکتا ہے۔ انھوں نے کہا: اسرائیل سینا پر دوبارہ قبضہ نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وہ مصر کے اندر کی کسی قوت کے سہارے سینا کو مصر سے جدا کروا دے اور اگر ایسا ہوا تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ مقامی قوتیں امریکی منصوبے پر عملدرآمد کریں گی۔ ناجی الشہابی نے کہا کہ امریکہ مصر کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے پر کام کرنا شروع کیا ہے جس کے تحت ڈيلٹا کے علاقے میں اسلامی امارت، اسکندریہ میں عیسائی امارت، الصعید کے علاقے میں النوبیہ امارت اور سینا میں غزاوی فلسطینی امارت قائم کی جائے گی۔ انھوں نے کہا: یہ وہی امریکی منصوبہ ہے جو 1986 میں امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل میں منظور کیا گیا تھا اور 2008 میں امریکی وزارت دفاع کے ایک جریدے میں شائع ہوا تھا اور اب امریکہ اس منصوبے پر عملدرآمد کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے مصری صدر محمد المرسی کی طرف سے چین، ایران، بھارت، روس، برازیل اور بعض دوسرے ممالک کے دوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور مشرق وسطی کی سیاست اب امریکی تسلط سے خارج ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصر اسرائیلی دھمکیوں کو سنجیدہ لیا ہے اور مصری افواج جواب کے لئے تیار ہیں اور اگر ہم ان دھمکیوں کو سنجید لیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مصری قوم صہیونی ریاست کے ساتھ جنگ کی فضا میں واقع ہوا اور یہ امر اس بات کا سبب بنے گا کہ ایک نیا مصر معرض وجود میں آئے جو اسرائیلی دشمن کا مقابلہ کرسکتا ہے اور نیتن یاہو کی دھمکیاں امریکی موقف سے مختلف نہيں ہیں کیونکہ ممکن ہی نہيں ہے کہ اسرائیل امریکہ اور اوباما کی اجازت کے بغیر مشرق وسطی میں کوئی مہم جوئی کرے یا اپنی دھمکیوں کو برملا کرے۔ انھوں نے کہا: صہیونی ریاست کے ساتھ مصر کے کیمپ ڈيويڈ امن معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ فریقین اس معاہدے کی تمام شقوں کا احترام کریں گے لیکن اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس کا احترام کررہے ہیں لیکن صہیونی ریاست اس کے احترام کا لحاظ نہيں کرتی چنانچہ یہ دھمکی کیمپ ڈیویڈ معاہدے کی یکطرفہ منسوخی کے مترادف ہے۔.................../110
10 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 355374
شامی تجزیہ نگار: امریکی فوج نے شام کو تقسیم کرنے کی سازش پر عملدرآمد اور دہشت گردوں کو امداد مہیا کرنے کے لئے اپنی فوجی ٹیم اردن میں تعینات کی ہے / مصری سیاستدان نے کہا: امریکہ نے مصر کو چار امارتوں میں تقسیم کرنے کی سازش تیار کررکھی ہے۔