8 اکتوبر 2012 - 20:30

مرکزی سیکریٹریٹ میں مرکزی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کیلئے اس میں شامل سربراہان نے فیصلہ کیا ہے کہ ایم ایم اے کو بحال کرکے ایک بار پھر ملک کی اکثریتی عوام کی نمائندگی کو موثر بنایا جائے۔

ابنا: شیعہ علماء کونسل کے سربراہ اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی سینئیر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملک کی معتبر دینی و سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے حوالے سے ایم ایم اے کی قیادت میں اتفاق رائے ہو چکا ہے اور جلد ہی متحدہ مجلس عمل دوبارہ سیاسی میدان میں قوم کی بہتر رہنمائی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکریٹریٹ میں مرکزی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس میں مرکزی سینئیر نائب صدر سید وزارت حسین نقوی ایڈووکیٹ، سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، ایڈیشنل سیکریٹری جنرل معظم علی بلوچ، مرکزی سیکریٹری مالیات علامہ مشتاق حسین ہمدانی، مرکزی سیکریٹری اطلاعات زاہد علی اخونزادہ، شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے صدر علامہ محمد باقر نجفی، پنجاب کے صوبائی جنرل سیکریٹری علامہ عظمت علی، خیبرپختونخواہ کے صوبائی جنرل سیکریٹری وسیم اظہر ترابی بھی موجود تھے۔علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لئے اس میں شامل سربراہان نے فیصلہ کیا ہے کہ ایم ایم اے کو بحال کرکے ایک بار پھر ملک کی اکثریتی عوام کی نمائندگی کو موثر بنایا جائے اور موجودہ سیاسی بحران سے ملک کو نکالنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا جائے، لہذا عنقریب ایم ایم اے ملک کی مذہبی و سیاسی صورت حال میں اپنا جاندار اور بھرپور رول ادا کرے گی۔علامہ ساجد نقوی نے اجلاس میں صوبوں کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹس اور تنظیمی صورت حال کا بغور جائزہ لیتے ہوئے مرکز اور صوبوں کو ہدایت کی کہ وہ تنظیمی امور کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی عوامی رابطوں کو موثر بنائیں، تاکہ آئندہ انتخابات میں بھرپور سیاسی عمل میں اپنا فیصلہ کن کردار ادا کیا جاسکے۔اجلاس میں دو مختلف قراردادوں کے ذریعہ امریکہ میں بنائی جانے والی گستاخانہ فلم کو امریکہ کی واضح اسلام دشمنی قرار دیتے ہوئے امریکی حکومت سے عالم اسلام سے معافی مانگنے اور فلم کے پروڈیوسر کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ وطن عزیز پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، قتل و غارت اور کوئٹہ، کراچی اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں جاری ٹارگٹ کلنگ کی بھی مذمت کی گئی اور حکومت سے فی الفور دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایکشن لینے اور سپریم کورٹ سے بھی ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔...../169