8 اکتوبر 2012 - 20:30

ایک بڑے اجتماع سے’’ فلسفہ ازدواج‘‘ پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سربراہ ایس یو سی نے کہا کہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے نکاح اور ازدواج کو نصف ایمان کی تکمیل کا سبب قرار دیا ہے اور بقیہ نصف ایمان انسان اپنے عمل و کردار کے ذریعہ بہتر بناسکتا ہے۔

ابنا: ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ مشترکہ خاندانی نظام دین اسلام کی اساس اور بنیاد ہے، جس پر اس کے ضروری تقاضوں کے مطابق عمل پیرا ہوکر ایک آئیڈیل انسانی معاشرہ کی تشکیل کی جاسکتی ہے۔ دنیائے عالم کے تمام مذاہب میں سلسلہ ازدواج لازم و ناگزیر ہے، تاہم دین اسلام میں اسے منفرد و ممتاز مقام حاصل ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جو قدر و منزلت، عزت و تکریم اور مقام عورت کو اسلام عطا کرتا ہے وہ شاید ہی کوئی مذہب فراہم کرتا ہو، یہی وجہ ہے کہ نکاح میں پہلے ایجاب اور پھر قبول ہے۔ یعنی عورت کی رضامندی کو مقدم رکھا گیا، گویا عورت کے حقوق کو اولیت دی گئی ہے۔ اسی طرح احادیث مبارکہ میں نکاح میں غیر ضروری تاخیر کی ممانعت کی گئی اور مردوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ عورتوں کے حقوق میں کوتاہی نہ برتیں اور اپنے فرائض کو پورے طور پر ادا کریں۔ عورت چاہے بیٹی، بیوی یا ماں ہو، ہر حال میں اس کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری قرار دیا گیا۔اپنے آبائی گاؤں ملہو والی (اٹک) میں علامہ سید عبدالجلیل نقوی کے فرزند سید حمزہ نقوی کی دعوت ولیمہ اور انکی دختر کی رسم نکاح کے موقع پر علامہ سید محمد تقی نقوی کے ہمراہ ایک بڑے اجتماع سے’’ فلسفہ ازدواج‘‘ پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے نکاح اور ازدواج کو نصف ایمان کی تکمیل کا سبب قرار دیا ہے اور بقیہ نصف ایمان انسان اپنے عمل و کردار کے ذریعہ بہتر بناسکتا ہے۔ اگرچہ دور جدید میں مختلف مذاہب اور گروہ اس سوشل کنٹریکٹ کو اپنی فکر اور نظریات کے مطابق دیکھتے ہیں اور آزاد معاشروں کا تصور پیش کرتے ہیں، جو بے راہ روی اور مادر پدر آزاد ماحول میں ڈھل کر تباہی و بربادی پر منتج ہوتے ہیں، لیکن ہر دور میں یہ ناقابل انکار حقیقت سامنے آئی ہے کہ مکتب اسلام میں رائج سلسلہ ازدواج اور مشترکہ خاندانی نظام ہی درحقیقت انسان اور انسانیت کی ترقی اور فلاح کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور اس نظام کے ذریعہ انسانوں کے سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔...../169