اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسی قسم کے ایک واقعے میں حال ہی میں پیش آيا جب آل سعود سے وابستہ "العربیہ" چینل کے ڈائریکٹر "عبدالرحمن راشد" نے آپے سے باہر ہوکر شام کے مظلوم عوام اور صہیونیت مخالف محاذ مزاحمت کے خلاف اپنے بغض و نفرت کا اظہار کرتے ہوئے متضاد رویہ اپنایا اور پہلے اردوگان کی تعریف کی اور پھر ان ہی پر تنقید کر ڈالی کیونکہ ان کے بقول ترک وزیر اعظم نے شام کو نیست و نابود کرنے کے لئے وہ کام نہيں کیا جس کی ان سے "آل سعود خاندان کے افراد" توقع کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ "اردوگان نے اپنا کردار صحیح طور پر ادا نہيں کیا ہے۔ عبدالرحمن راشد نے اتوار (7اکتوبر2012) کو سعودی اخبار "الشرق الاوسط" میں اپنے ایک مضمون میں اردوگان کو شام پر حملہ کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے لکھا:نجانے کہ ترکی کس حد تک اس نقصان کو سمجھ سکا ہے جو شام کے حوالے سے عالم عرب کو درپیش ہے، یہ مسئلہ ماضی کی نسبت بہت بڑا ہے اور ترکی کا کردار بھی کافی بڑا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ترک حکمران اپنے مفادات کو سب پر ترجیح دیتے ہيں اور انہیں اپنے بڑے کردار کا احساس ہے جو وہ ابھی تک ادا نہیں کرسکے ہیں گوکہ ہمیں اس بات کا سبب نہيں معلوم کہ وہ اپنا کردار کیوں نہيں ادا کررہے ہیں؟اردوگان کئی سال قبل عرب دنیا کو اہمیت دینے لگے اور عرب دنیا میں مثبت کردار ادا کرنے کے لئے اپنی آمادگی ظاہر کی تو انھوں نے ابتداء میں غلط راستے پر چل دیئے اور بشار اسد کو بیرونی چیلنجوں میں مدد فراہم کی اور ایران کے ایٹمی پروگرام کی حمایت کی لیکن کچھ عرصہ بعد غلطی کا احساس ہوا تو یہ پالیسیاں بدل ڈالیں!اردوغان کی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے عربوں کی توقعات میں اضافہ کیا لیکن کوئی مہم کام انجام نہیں دیا سوائے اس کے انھوں نے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کا پروگرام منسوخ کیا۔ شام کے سلسلے میں ان کا موقف زيادہ مایوس کن تھا کیونکہ ایک سال تک شام میں قتل عام پر انھوں نے صرف دھمکیوں پر اکتفا کیا اور ابھی تک انھوں نے کوئی اقدام انجام نہيں دیا۔اردوگان نے اپنے وزیر خارجہ کے ساتھ میانمار کے دورے کے دوران وہاں کے بےگھر مسلمانوں کے ساتھ تصویریں بنوائیں اور انہيں بھی وہی وعدے دیئے جو وہ اس سے قبل فلسطینیوں اور شامیوں کو دیتے رہے تھے لیکن کوئی اقدام نہيں کیا اور ہم جیسوں نے ان کے دورہ میانمار کو بھی ایک تشہیری اور نمائش اقدام قرار دیا۔ترکی نے اسرائیل سے لے کر میانمار تک بہت سی امیدیں ناامید کرديں اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ترک حکمرانوں سے ان کی ذمہ داری سے زيادہ کی توقع وابستہ کی گئی ہے؟ کیا وہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ عربوں کو ایک جوشیلی تقریر سے خریدا جاسکتا ہے؟ جبکہ آیت اللہ خمینی، سید حسن نصر اللہ اور بشار اسد بھی تقریریں کرتے رہے ہیں۔ اردوگان ایک عوامی شخصیت ہيں اور جانتے ہیں کہ رائے عامہ کو کس طرح اپنی جانب متوجہ کیا جاسکتا ہے اور افراد کو کس طرح ترغیب دلائی جاسکتی ہے یا آمادہ کیا جاسکتا ہے چنانچہ انتخابات میں وہ کامیاب ہوئے لیکن جو توقعات ہم ان سے وابستہ کئے ہوئے ہیں یا تو وہ ترکی کی قوت و صلاحیت سے باہر ہیں یا پھر وہ ترکی کے اندرونی حالات سے مطابقت نہيں رکھتیں۔امید ہے کہ ترکی شام میں اہم کردار ادا کریں اور اس ملک کے عوام کو نجات دلانے میں تیز رفتار اقدامات کریں۔مختصر تبصرہ:یہ سب عبدالرحمن ایسے حال میں لکھ رہے ہیں کہ آل سعود کی سلطنت آج کی دنیا کی سب سے خوفناک آمریت کا نمونہ پیش کررہی ہے جہاں انسانوں کو "کیوں" اور "کیسے" کہنے تک کا حق نہيں دیا جاتا لیکن ان کی آنکھیں گویا اس جانب "بند" ہیں وہ صرف شام کو دیکھ رہے ہيں جہاں اسرائیل کی مزاحمت ہوتی ہے اور آل سعود اور اسرائیل کا مفاد ایک ہے جیسا کہ یہودی ریاست کا تحفظ آل سعود ہی کا تحفظ ہے۔ عبدالرحمن راشد گویا سپنوں میں رہتے ہیں اور وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ شام ایک بے دست و پا ملک نہیں ہے اور عراقی افواج کی طرح اس کے جرنیل بھی حملہ آور قوت کے ہاتھوں بکے نہيں ہیں اور شامی افواج کی قوت اسرائیلی فوج کے مقابلے کے لئے تیار کی گئی ہے اور اگر ترکی نے حملہ کیا تو ایسا بھی نہيں ہے کہ وہ شام کی چائے انقرہ میں پئیں گے تو ناشتا دمشق میں تناول فرمائیں گے بلکہ انہيں بڑی کانٹے دار مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور حالیہ برسوں میں تعمیر و ترقی پانے والے ترکی کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی اور شیشے کی ترک عمارتیں چکناچور ہوجائیں گی اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اردوگان اپنی شدید حماقت اور آل سعود اور آل ثانی کی طرف سے بڑي بڑی رقوم کی پیشکش کے باوجود اس ظریف نکتے کو بخوبی سمجھتے ہيں کہ "شام کے ساتھ جنگ میں شام دمشق ہی نہيں انقرہ اور استنبول بھی خاک کے ڈھیر میں تبدیل ہونگے اسی وجہ سے جناب اردوگان میں ایک ایسے ملک پر حملے کی جرأت نہیں ہے جس کے ایک بڑے حصے کو اسرائیل، امریکہ اور یورپ نے آل سعود، ترکی اور آل ثانی کے ہاتھوں تباہ کردیا ہے کیونکہ اس ملک کو اپنے دشمنوں سے مزید ویرانی کی بھی توقع ہے اور کسی بھی جارح ملک کو ویران کرنے سے اس کو کوئی افسوس نہیں ہوگا؛ تا ہم ریاض اور دوحہ کے حکمران سمجھتے ہیں کہ ان کو اس جنگ سے کوئی خاص نقصان نہيں پہنچے گا۔ اس کے باوجود اردوگان مغرب اور صہیونیت کی فراخدلانہ خدمت کے باوجود اس بات کو بھی بخوبی سمجھتے ہیں کہ ترکی کی ویرانی بھی مغرب کے لئے شام کی ویرانی جتنی ہی، مطلوب ہے۔ اور ہم بھی جانتے ہیں کہ آل سعود اور ان سے وابستہ قلم فروش لکھاری بھی مغرب اور صہیونیت ہی کی ترجمانی کررہے ہیں ورنہ نہ تو ان کو عثمانی سلطنت کے احیاء کا شوق ہے جس کو ان ہی کے آبا و اجداد نے انگریزوں کے ساتھ مل کر تہس نہس کیا تھا؛ اور نہ ہی انہیں شام کے عوام کی آزادی درکار ہے کیونکہ وہ خود بھی اپنی قوموں کو غلام بناکر قرون وسطی کے طرز پر حکمرانی کررہے ہیں۔ بے شک آج شام اور ترکی کے درمیان جنگ مغرب اور صہیونیت لئے معمر قذافی کے مشکوک قتل جتنی شیریں ہے وہی جس کی تلقین جناب عبدالرحمن راشد اور ان کے عربی اور مغربی و صہیونی آقا "دور سے"، کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110