ابنا: حافظ حسین احمد جب کالعدم فرقہ پرست جماعت کالعدم سپاہ صحابہ کے جلسہ کے دوران اسٹیج پر تشریف لائے تو پورا ہاکی گراؤنڈ کافر کافر کے نعروں کی صدائوں سے گونج رہا تھا، ان نعروں کی آوازیں دور دور تک سنائی دے رہی تھیں۔ حتٰی کہ جب حافظ صاحب کو اسٹیج پر خطاب کیلئے بلایا گیا تو اس وقت بھی انہی نعروں کی گونج جاری تھی، مگر حافظ صاحب نے نہ تو ان نعروں کیخلاف اپنے لبوں کو زحمت دی اور نہ ہی اشاروں کنایوں میں اس کی مذمت کی۔
حافظ حسین احمد کی اس وقت سبکی ہوئی، جب انہوں نے مولانا اعظم طارق کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے کوشش کی تھی کہ قومی اسمبلی میں مولانا اعظم طارق کو ساتھ ملایا جائے، مگر انہوں نے یہ کہہ کر اُن کی پیشکش مسترد کر دی تھی کہ ان کے کچھ مطالبات ہیں، جو ظفر اللہ جمالی (اس وقت کے وزیراعظم) نے تسلیم کر لئے ہیں۔ لہذٰا وہ ان کا ساتھ نہیں دے سکتے۔ ابھی یہ الفاظ جاری ہی تھے کہ اسٹیج کے سامنے سے شیعہ مخالف نعرے بلند ہونا شروع ہوگئے۔ اس دوران انہیں اسٹیج پر اپنے خطاب کو روکنا پڑ گیا اور نقیب اسٹیج نے کہا ‘‘جناب آپ لوگوں نے ملی یکجہتی کونسل میں ہمارے دشمنوں کو ساتھ بیٹھایا ہوا ہے،’’ اس پر حافظ حسین احمد نے کہا کہ انہوں نے کالعدم سپاہ صحابہ کی قیادت کو کونسل میں بیٹھانے کی بات کی تھی، مگر ان کی پیشکش کا کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ اس دوران دوبارہ جلسہ گاہ میں نعرے بلند ہونا شروع ہوگئے کہ شیعہ کا جو یار ہے، غدار ہے غدار ہے، اس پر حافظ صاحب کو اپنا خطاب ادھورا چھوڑنا پڑ گیا۔
اس سے پہلے حافظ حسین احمد جب اسٹیج پر خطاب کیلئے آئے تو توقع کی کی جا رہی تھی کہ شائد وہ ملی یکجہتی کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے اس اجتماع میں ایسی کوئی بات کریں گے جس سے کالعدم جماعت کی قیادت کو یہ پیغام جائے گا کہ اب بہت ہوگیا، اب یہ غلیظ نعرے اور یہ ایجنڈا نہیں چل سکتا۔ لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حافظ حسین احمد کی سپاہ صحابہ کے جلسہ میں شرکت غیر متوقع اور غیر معمولی بات تھی، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حافظ صاحب کے اس اقدام سے کالعدم جماعت کا احساس تنہائی کم ہوا ہوگا اور ان کی موجودگی نے کالعدم جماعت کے حوصلوں کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کیلئے کچھ عرصہ قبل ملک کی تمام دینی جماعتوں نے ملکر ملی یکجہتی کونسل کا دوبارہ احیاء کیا تھا، اور اس موقع پر طے پایا تھا کہ ماضی کی طرح تکفیری سوچ رکھنے والوں اور ملک میں فرقہ واریت کا موجب بننے والی تنظیموں کو نہ تو اس اتحاد کا حصہ بنایا جائے گا اور نہ ہی ان کی کسی قسم کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاہم ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل کی کالعدم فرقہ پرست جماعت سپاہ صحابہ کے جلسہ میں شرکت نے دینی جماعتوں کے اس اتحاد پر کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔
.......
/169