5 اکتوبر 2012 - 20:30

صہیونی پولیس کی بھاری نفری جمعہ کے روز مسجدالاقصی میں داخل ہوئی اور نمازی باب المغاربہ میں ان کے ساتھ لڑ پڑے۔

 پولیس نے مسجد کی بے حرمتی کرتے ہوئے احاطے کے اندر ہی آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ یہ جھڑپیں ایسے حال میں ہوئی ہیں کہ مسجد الاقصی پر صہیونیوں کی جارحیت کے حوالے سے دھمکیوں کے بعد صورت حال تناؤ سے دوچار ہے جبکہ ایک اطلاع کے مطابق صہیونی پولیس نے جمعرات کے روز 9 افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن یہ معلوم نہيں ہوسکا کہ یہ افراد انتہا پسند یہودی تھے یا پھر بےچارے مسلمان۔ مسجد الاقصی پر صہیونیون کی جارحیت اور دائیں بازو کے بعد انتہا پسند صہیونی سرغنوں کی طرف سے مسجد الاقصی کے معائنے کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے۔

اردن کے سرکاری ترجمان نے مسجدالاقصی کے احاطے میں صہیونی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے قدس شریف میں مسلم ـ عیسائی مقدسات پر صہیونی حملوں کو دینی تشدد کی آگ بھڑکانے کے مترادف قرار دیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو مسجدالاقصی پر جارحیت سے روک دے۔
.......

/169-110