اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا کی رپورٹ کے مطابق شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا ہے کہ اگر صہیونیوں نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر مسجدالاقصی پر جارحیت کی تو یہ مسلمانوں کے ہاں نئی جنگ کے لئے سرخ لکیر پارکرنے کے مترادف ہوگی۔ انھوں نے مسجد الاقصی کے صحن میں نمازیوں پر صہیونی افواج کے حالیہ حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صہیونی پالیسیوں کو علاقائی امن کے لئے خطرناک قرار دیا اور عالمی برادری کو اس کے خطرناک انجام کے حولے سے خبردار کیا۔ انھوں نے کہا: صہیونیوں کی یہ پالیسیاں مذہبی جھڑپوں اور نئی جنگ پر منتج ہونگی اور اس کی تمامتر ذمہ داری صہیونی ریاست کے حکام پر ہوگی۔

شیخ الازہر ڈاکٹر احمد الطیب
الطیب نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے: شہر قدس اور مسجد الاقصی سرخ لکیر ہے جس کو پار کرنا ممکن نہيں ہے چنانچہ اس سرخ لکیر سے تجاوز نہ صرف فلسطین کے امن و استحکام کے لئے خطرہ ہے بلکہ یہ ایسی جارحیت پورے خطے اور دنیا کے امن و سلامتی کو تباہ کر رکھے گی۔ انھوں نے کہا: صہیونیوں کے معاندانہ اور شرانگیز اقدامات ـ جن کا مقصد مسجد الاقصی کا انہدام ہے ـ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کررہے ہیں۔شیخ الازہر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں کے خاتمے اور مسجد الاقصی اور شہر قدس ـ کو ایک تہذیبی و تمدنی مقام کی حیثیت سے ـ اور اس میں موجود مقدسات کی حمایت و حفاظت کے لئے میدان عمل میں اتریں۔چھ اکتوبر کی خبر:صہیونی کل مسجد الاقصی پر حملہ کررہے ہیںصہیونی ـ یہودی انتہا پسند جماعت "لیکود" سے وابستہ ایک انتہاپسند یہودی صہیونی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کل (سات اکتوبر کو) مسجد الاقصی پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ حملہ منگل کے روز صبح سات بجے شروع ہوگا۔ الاقصی اوقاف و میراث نامی ادارے نے صہیونی گروپ کے اعلان کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے فلسطینیوں کو دعوت دی تھی کہ منگل کے روز صبح کے وقت مسجدالاقصی پہنچیں اور صہیونیوں کے حملے کا سد باب کریں۔ 28 ستمبر کی ایک خبرحماس نے مسجد الاقصی پر صہیونی جارحیت کے حوالے سے خبردار کیااسلامی مزاحمت تحریک "حماس" نے ایک بیان میں مسجدالاقصی پر صہیونیوں کے کسی بھی حملے کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ مسجد میں اعتکاف کریں اور مسجد پر کسی بھی حملے کا سد باب کریں۔ حماس نے اپنے بیان میں کہا تھا: ہم صہیونیوں کو مسجد الاقصی، نمازیوں اور معتکفین کے خلاف صہیونی جارحیتوں پر مبنی حماقتوں کے حوالے سے خبردار کرتے ہیں اور اس اقدام کو الہی اور آسمانی ادیان کی کھلی توہین اور بین الاقوامی قوانین کی تنفیص سمجھتے ہیں جو اربوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کردیتی ہیں۔ صہیونی ریاست ہی مسجد الاقصی اور اس میں موجود نمازیوں اور معتکفین پر حملوں کے نتائج کی ذمہ دار ہوگی۔حماس نے پوری امت مسلمہ سے درخواست کی تھی کہ اپنے قبلۂ اول کے تحفظ کے لئے اپنے فلسطینی بھائیوں سے یکجہتی اور اور ان کی مزاحمت و استقامت کی حمایت کریں۔ حماس نے اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ مسجدالاقصی المبارک کے تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور صہیونی جارحیتوں کے مقابلے میں اس مسجد کی حمایت کریں۔جمعہ کے روز صہیونیوں کا حملہمسجد الاقصی میں صہیونی پولیس اور نمازیوں کےدرمیان جھڑپیںصہیونی پولیس کی بھاری نفری جمعہ کے روز مسجدالاقصی میں داخل ہوئی اور نمازی باب المغاربہ میں ان کے ساتھ لڑ پڑے۔ پولیس نے مسجد کی بے حرمتی کرتے ہوئے احاطے کے اندر ہی آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ یہ جھڑپیں ایسے حال میں ہوئی ہیں کہ مسجد الاقصی پر صہیونیوں کی جارحیت کے حوالے سے دھمکیوں کے بعد صورت حال تناؤ سے دوچار ہے جبکہ ایک اطلاع کے مطابق صہیونی پولیس نے جمعرات کے روز 9 افراد کو گرفتار کیا تھا لیکن یہ معلوم نہيں ہوسکا کہ یہ افراد انتہا پسند یہودی تھے یا پھر بےچارے مسلمان۔ مسجد الاقصی پر صہیونیون کی جارحیت اور دائیں بازو کے بعد انتہا پسند صہیونی سرغنوں کی طرف سے مسجد الاقصی کے معائنے کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے۔


اردن کے سرکاری ترجمان نے مسجدالاقصی کے احاطے میں صہیونی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے قدس شریف میں مسلم ـ عیسائی مقدسات پر صہیونی حملوں کو دینی تشدد کی آگ بھڑکانے کے مترادف قرار دیا اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو مسجدالاقصی پر جارحیت سے روک دے۔

اسلامی تعاون کانفرنس کی قدس کمیٹی: صہیونیوں کی طرف سے قدس پر حملے کی مکمل تیاریمسجد الاقصی کے نیچے صہیونیوں کی کھدائی کا دیوانہ وار سلسلہ جاری ہے اور دیکھا گیا ہے کہ کھدائی کرنے والے گروہ ـ جو صہیونی ـ یہودی ریاست سے وابستہ اور انتہا پسند یہودی ہیں ـ نے اٹھارہ مقامات پر کھدائی کی ہے اور ساتھ مقامات پر اس کھدائی میں بےتحاشا اضافہ ہوا ہے جس کا مقصد مسجد الاقصی کے نیچے ایک جعلی یہودی شہر کی تعمیر ہے جس کو یہودی ریاست حضرت داؤد علیہ السلام سے منسوب کرے گی اور دعوی کرے گی کہ فلسطین یہودیوں کا پرانا وطن ہے اور یہ "قدیم شہر" (جو اس وقت بن رہا ہے) اس دعوے کا ثبوت ہے۔ مسجد الاقصی کو لاحق خطراتاسلامی تعاون کانفرنس کی قدس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مسجدالاقصی کے خلاف صہیونی یہودیوں کی سازشوں سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ صہیونی یہودی مسجد الاقصی کو منہدم کرکے اپنے دعوؤں کے مطابق یہاں ہیکل سلیمانی بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انھوں نے اس کام کے لئے ایک خاص نظام الاوقات کا تعین کیا ہے۔ یہ رپورٹ "القدس واچ" کے عنوان کے تحت "المحیط" اور "قدسنا" ویب سائٹس پر مسجد الاقصی کو نذر آتش کرنے کی صہیونی اقدام کی برسی کے موقع پر شائع ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ 21 اگست 1969 کو مایکل روہان نامی انتہا پسند صہیونی نے مسجد الاقصی کو آگ لگائی تھی جس سے مسلمانوں کے قبلۂ اول کو شدید نقصانات پہنچے تھے۔ اس رپورٹ میں مسجد الاقصی پر تسلط پانے کی صہیونی سازش کے مختلف پہلو زیر بحث لائے گئے ہیں اور واضح کیا گیا ہے کہ صہیونی ریاست کے حکام کی پالیسیوں میں گذشتہ دو برسوں سے آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر، صہیونیوں نے مسجد الاقصی پر دست درازی کی سازش تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق:٭ 1967 میں بیت المقدس پر صہیونی قبضے کے بعد یہودی رابیوں نے فتوی جاری کرکے یہودیوں کے مسجدالاقصی میں داخلے کو حرام قرار دیا لیکن 2007 میں سولہ صہیونی رابیوں نے مل کر فتوی دیا کہ یہودی مسجد الاقصی میں داخل ہوں وار نام نہاد "جبل الہیکل" نامی مقام پر عبادت کریں۔ ٭ ان رابیوں اور ان کے پیروکاروں کی طرف سے سازشوں اور دشمنیوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور سیاسی میدان میں تجاوز اور دست درازی اور مسجد کو نقصان پہنچانا، صہیونی ریاست کے تمام دھڑوں اور مکاتب فکر کا مشترکہ نقطہ ہے۔ درحقیقت اسرائیلی ریاست نے گذشتہ دو برسوں کے دوران ادارہ آثار قدیمہ، نوآبادی تعمیر کرنے والے اداروں اور دوسرے متعلقہ اداروں کو اپنی حمایت میں مسجد الاقصی کی ہتک حرمت، نقصان پہنچانے اور حتی کہ منہدم کرنے جیسے احمقانہ اقدامات کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ٭ صہیونیوں کی پالیسیوں میں رونما ہونے والی اہم ترین تبدیلی یہ ہے کہ صہیونیوں کی حکومت نے مسجد کے خلاف معاندانہ اقدامات کا ایک حصہ اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور باضابطہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ وہ ان اقدامات ـ بالخصوص چھ فروری 2007 سے مسجد کے اصلی ترین دروازے "باب المغاربہ" کو گرانے کی نیت سے اس دروازے کے نیچے ہونے والی کھدائیوں ـ کی حمایت کرتے ہیں۔ قانونی لحاظ سے صہیونی سپریم کورٹ نے انتہا پسند یہودیوں کو جو جواز فراہم کیا ہے وہ یوں ہے: وہ مسجد الاقصی میں یہودیوں کے داخلے کی حرمت کا حکم ختم ہونے کے بعد ـ جو کسی وقت ایک <سیاسی منصوبہ بندی> کے تحت حرام قرار دیا گیا تھا (تاکہ فلسطینی عوام مطمئن اور پرسکون رہیں اور اور مسجد پر یہودی قبضے کے حوالے سے فکرمند نہ ہوں تا کہ یہودیوں کے داخلے کا یہ حکم پھر بھی سیاسی منصوبوں کے تقاضوں کے مطابق بدلا جاسکے اور مسجدالاقصی میں داخلے کو جائز قرار دیا جائے) ـ یہودی مسجد الاقصی میں دراندازی اور نفوذ اور مسجد الاقصی کے اندر یہودی عبادت بجالانے کے سلسلے میں صہیونی ریاست کی مکمل حمایت سے بہرہ مند ہیں اور یہ سب درحقیقت مختلف سیاسی، دینی اور قانونی کرداروں کو صہیونی ریاست کے مختلف شعبوں میں تقسیم کرنے کے مترادف ہے جو سب مل کر ایک ہی ہدف کے حصول کے لئے کوشاں ہیں اور وہ واحد ہدف "مقدس یروشلم" کی تشکیل ہے جس میں مسجد الاقصی کو مسلمانوں سے چھیننے اور اس کو شہید کرکے اس کے ویرانوں کے نیچے سے موہوم معبد سلیمانی برآمد کرنے کا منصوبہ ہے۔ ٭ مسجد الاقصی کے نیچے اور اطراف میں کھدائی کا کام دیوانہ وار تیزرفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ کھدائی کرنے والے گروہ ـ جو صہیونی ـ یہودی ریاست اور تشدد پسند جماعتوں سے وابستہ اور انتہا پسند یہودی ہیں ـ نے اٹھارہ مقامات پر کھدائی کی ہے اور سات مقامات پر اس کھدائی میں بےتحاشا اضافہ ہوا ہے جس کا مقصد مسجد الاقصی کے نیچے ایک جعلی یہودی شہر کی تعمیر ہے جس کو یہودی ریاست حضرت داؤد علیہ السلام سے منسوب کرے گی اور دعوی کرے گی کہ فلسطین یہودیوں کا پرانا وطن ہے اور یہ "قدیم شہر" (جو اس وقت بن رہا ہے) اس دعوے کا ثبوت ہے۔ ٭ خطرناک ترین کھدائیوں میں سے ایک مسجدالاقصی کے جنوب میں 600 میٹر کی مسافت تک ہیرودینانی راستہ کہلانے والے راستے کی سمت ہورہی ہے اور یہ کھدائی یا یہ نام نہاد راستہ "میدان البُراق" کو یہودیوں کے نام نہاد "شہر داؤد" سے ملادیتا ہے جبکہ مسجد کے مغرب میں بھی 10 مقامات پر کھدائی ہوئی ہے اور ان کھدائیوں میں فعال ترین کھدائی مسجد الاقصی کے نیچے سرنگوں کا جال ہے۔٭ شمالی حصے سے ہونے والی کھدائی باب الآلام کے ساتھ مدرسہ عمریہ کے علاقے سے ـ جہاں چکاوک تالاب" بھی واقع ہے ـ سے ہوتے ہوئے مسجد کے نیچے پہنچتی ے تاکہ اس جعلی تاریخ کا انتظام ہوسکے جس میں یہودی اپنے آپ کو عیسائیت سے جوڑیں گے اور دنیا سے آنے والے سیاحوں کو مسیحی زیارتگاہوں کے ساتھ ساتھ جعلی یہودی شہر دیکھنے کی دعوت دی جاسکے اور یہودی شہر بین المقدس کا اٹوٹ انگ نظر آئے۔ ٭ ان کھدائیوں کے ساتھ یہودی مسجدالاقصی اور اس کے ارد گرد شب و روز مو