3 اکتوبر 2012 - 20:30

امریکہ کے دو صدارتی امیدوار صدر بارک اوباما اور رامنی نے کل آپس میں مناظرہ کیا جس میں دونوں کے پاس کوئی خاص بات کہنے کو نہ تھی تا ہم ۔۔۔۔۔

تا ہم امریکیوں نے سنی ان سنی کرکے کہہ دیا کہ اوباما ہارگئے ہیں لگتا ہے کہ انہیں سیاسی اور معاشی میدان اور عالمی سیاست میں شکست خوردہ اوباما سے اب فتح اور کامیابی کی کوئی امید نہیں ہے جس کی بنا پر امریکی عوام نے پیشگی فرض کرلیا ہے کہ اوباما ہارگئے ہیں اور انتخابات میں بھی ہار جائیں گے۔

لیکن اس کے باوجود ترکی اور شام میں لڑائی شروع کروا کر شاید اوباما نیا کارڈ کھیلنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یوں کامیابی کی امید اردوگان صاحب سے لگائے بیٹھے ہیں یعنی یہ کہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد شام کے ہاتھوں سیاسی شخصیت میں بدلنے والے "خالد مشعل" نے اوباما کو جو "عالم اسلام کے قائد" کا لقب عطا کیا ہے اسی بنا پر اب ممکن ہے کہ جناب اردوگان عالم اسلام کے قائد کی حیثیت سے شام کے خلاف ایک خطرناک جنگ کے میدان میں اتریں اور یوں اوباما صاحب کی کامیابی کے آثار نمودار ہوجائیں۔

لیکن امریکہ کیا نئے انتخابات کے بعد اندرونی طور پر کھوکھلے پن اور عالمی سطح پر زوال سے جان چھڑآ سکے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ایک دوسرے کو دانت دکھانے والے ان دو امریکیوں کو ہی دینا پڑے گا لیکن کیا وہ اس سوال کا جواب دے سکیں گے؟