ابنا: اٹھارہ ہزاری میں مجلس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کا قیام ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا جب ملک بھر میں ایک ایسی جماعت کی شدت سے احساس کیا جارہا تھا اور قوم مسلسل مایوسی اور بے سرپرستی کا احساس کر رہی تھی مخلتف مسائل میں آواز اٹھانے والا کوئی نہ تھا۔
علمائے کرام اور ذاکرین عظام اور عزاداروں کے جم غفیر سے اپنے خطاب میں علامہ ناصر عباس جعفری نے اصل اصول تشیع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مجلس وحدت مسلمین کا پیغام درحقیقت وہی پیغام غدیر ہے جس کی جانب ملت کو گامزن کرنا ہے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے غدیر کے آفاقی پیغام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ولایت کے تشریعی مفہوم کو زیادہ تر ہمارے درمیان مکمل طور پر بیان نہیں کیا گیا جہاں سے سیاسی اور سماجی راہ حل نکلتا ہے انہوں نے اپنے خطاب میں باہمی وحدت اور بھائی چارگی پر زور دیا اور اختلاف اور تفرقہ کودشمن کا وہ ہتھیار قراردیا جس سے وہ قوم کو ٹکڑوں میں بانٹ کر اس محکوم قوموں میں تبدیل کردیتا ہے.
.....
/169