1 اکتوبر 2012 - 20:30

اقوام متحدہ نے شام کے خلاف لڑنے والے دہشت گردوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف لڑتے ہوئے بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بچوں کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ لیلی زروقی نے ایک ٹی وی مکالمے میں الزام لگایا ہے کہ حکومت شام کے خلاف لڑنے والے "فری آرمی" کہلانے والے دہشت گرد گروپوں میں شامل باغی بچوں کو انسانی ڈھال کے عنوان سے استعمال کررہے ہيں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت شام کے خلاف برسرپیکار باغی بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔شام میں بیگانوں سے زیادہ عرب، مداخلت کررہے ہیںشام کے رکن پارلمان شریف الشحادہ کا کہنا تھا کہ شام کے معاملات میں اجنبی قوتوں کی مداخلت واضح و آشکار ہے لیکن عربوں کی مداخلت زیادہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق شام کی پارلیمان "مجلس الشعب" کے رکن شریف شحادہ کا کہنا تھا کہ شام میں القاعدہ، تکفیری گروپوں، قطر، سعودی عرب اور قطر اور ترکی کی مداخلت پہلے سے کہیں زيادہ آشکار ہوچکی ہے۔انھوں نے کہا: ڈیڑھ سال کی اس مدت میں مختلف قسم کی مداخلتیں ہوئی ہیں تا ہم شام کے عوام اور مسلح افواج کو قومی اتحاد اور یگانگت کا تحفظ کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی اور جو لوگ اپنی امیدیں شام کی شکست سے باندھے ہوئے تھے انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔ آج شام میں بیرونی مداخلت ایک افسانہ نہيں ہے بلکہ پوری دنیا جانتی ہے کیونکہ یہ مداخلت خفیہ طور پر نہيں بلکہ اعلانیہ ہورہی ہے چنانچہ شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا جو درست اشارہ تھا اور اس میں شک نہيں ہے کہ شام کا مسئلہ حل کرنے کا واحدہ راستہ یہ ہے کہ باغی دہشت گردوں کو بیرونی ممالک کی طرف سے امداد اور ہتیھاروں کی ترسیل بند کی جائے۔ انھوں نے کہا: ترکی، قطر اور سعودی عرب شام کے باغیوں کو امداد فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں گوکہ ان گروپوں کی حمایت کو امداد کی فراہمی میں اصل اور بنیادی کردار امریکہ ادا کررہا ہے اور یہ ممالک اس کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔انھوں نے کہا: جب تک ہتھیار زمین پر نہيں رکھے جائیں گے، مذاکرات کا منصوبہ پیش کرنا غیرمعقول ہوگا اور چونکہ مسلح دہشت گرد مسلسل شام میں بھجوائے جارہے ہیں سیاسی عمل کے آغاز کی امید نہیں رکھی جاسکے گي۔ شحادہ نے کہا: شام کے مسئلے کا واحد راہ حل یہ ہے کہ تمام شامی گروپ اور جماعتیں قومی مذاکرات میں شرکت کریں لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ تمام گروپ ہتھیار ڈال دیں، تشدد بند کریں، دہشت گردی کو ترک کیا جائے اور اجنبیوں کی مداخلت ختم کی جائے اور اگر ایسا ہوا تو شام کے عوام اپنے ملک کا مسئلہ خود حل کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا: شام کے وزیر خارجہ نے تمام مخالف جماعتوں کو گفتگو کی دعوت دی ہے ہے لیکن بیرون ملک بیٹھے ہوئے مخالفین گفتگو اور مذاکرات نہیں چاہتے کیونکہ ان کے پاس پہلے سے تیار شدہ منصوبے ہیں اور اپنے آقاؤں اور حامیوں کی اجازت کے بغیر مذاکرات کی طرف قدم نہيں بڑھا سکتے؛ وہ مسلسل شام کی حکومت کا تختہ الٹنے کا نعرہ لگارہے ہیں اور بیرونی قوتوں کو شام میں فوجی مداخلت کی دعوتیں دے رہے ہیں ایسے میں یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مذاکرہ کیا جائے جو حکومت شام کے دشمن ہیں اور اس کا تختہ الٹنے کے لئے کوشاں ہیں اور پھر ان کے حامی ذرائع ابلاغ و تشہیر بھی ان ہی کے موقف کو اچھال اچھال کر پیش کررہے ہیں!نولینڈ: شام کے بارے میں العربیہ چینل کی رپورٹ سازش ہےامریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے شام کی حدود میں ترک طیارے کے دو ہوابازوں کی گرفتار اور قتل کے بارے میں آل سعود سے وابستہ نیوز چینل العربیہ کی جعلی رپورٹ کو سازش قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق رائٹرز خبررسان ایجنسی نے لکھا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ویکٹوریا نولینڈ نے نے گذشتہ مہینوں شامی افواج کے ہاتھوں ترک طیارے کی تباہی اور اس کے دو گمشدہ ہوابازوں کے بارے میں، آل سعود سے وابستہ اور حکومت شام کے خلاف ابلاغی جنگ لڑنے والے "العربیہ" چینل کی جعلی رپورٹ کو سازش قرار دیا ہے۔نولینڈ نے کہا: العربیہ چینل نے مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر اعلان کیا ہے کہ شام کے پانیوں میں ترک طیارے کے مارگرائے جانے کے بعد دونوں ہواباز زندہ تھےگرفتار کئے گئے تھے اور دونوں کو صدر بشار الاسد کے حکم پر ہلاک کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: ہمارے کسی بھی انٹیلجنس اور سیکورٹی ادارے کو ایسی کوئی دستاویز نہيں مل سکی ہے اور ہمارے ماہرین کی رائے بھی العربیہ کی رپورٹ سے مغایرت رکھتی ہے؛ لہذا میں اس رپورٹ کو ایک سازش کے لئے تیار کردہ نظریہ پردازی قرار دیتی ہوں اور اعلان کرتی ہوں کہ ایسی کوئی بھی رپورٹ صحیح نہیں ہوسکتی۔ واضح رہے کہ العربیہ چینل نے حال ہی میں مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر شام کے حالات کے بارے میں بعض عجیب و غریب دعوے کئے ہیں جو نہ صرف ترکی کی حکومت بلکہ دنیا کی بیشتر آزاد ذرائع کی جانب سے مسترد کی گئی۔ دریں اثناء شام کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں العربیہ کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "بعض تشہیری اداروں" نے ترکی کے دو ہوابازوں کی ہلاکت کو روس سے نسبت دی ہے اور ہم ان سے چاہتے ہیں کہ بےبنیاد افواہیں اڑا کر علاقے کے امن کو تباہ کرنے سے باز رہيں۔

شامی کردوں کے ساتھ ترک فوج کی پہلی لڑائیترک افواج نے شام کے مسلح کردوں کے ساتھ پہلی جھڑپ میں ایک کرد باشندے کو شام کے اندر ہی قتل کردیا۔ اطلاعات کے مطابق ایک مسلح کرد باشندہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شام کے اندر ہی سرحد کے قریب گشت میں مصروف تھا کہ اسی اثناء میں ترک فوجیوں نے ان پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔اس رپورٹ کے مطابق ترک فوجیوں کی فائرنگ سے تین افراد زخمی بھی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ افراد صوبہ "الحسکہ" کے شہر "الدرباسہ" کے نواحی گاؤں "تل لیلون" میں گشت کررہے تھے اور یہ ترک افواج اور شام کے کرد باشندوں کے درمیان جھڑپوں کا پہلا واقعہ ہے اور اس واقعے کی خصوصیت یہ ہے کہ کرد شہری کو "بلااشتعال" اور "سرزمین شام کے اندر" قتل کیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ترک حکومت جو پہلے سے ہی اپنے ملک کے اندر کرد باغیوں کی طرف سے شدید حملوں کا سامنا کررہی ہے اور شام اور عراق کے ساتھ بھی دشمنی کے راستے پر چل نکلی ہے، اب شامی کردوں کی طرف سے بھی شدید حملوں کا سامنا کرسکتی ہے۔ واضح رہے کہ پی کے کے کے کرد باغیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے عراق کے ڈکٹیٹر صدام نے ترکی کو کئی فوجی اڈے دیئے تھے اور اب عراق کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان اڈوں کو مکمل طور پر بند کیا جائے یا ان کی مدت کی تجدید نہ کی جائے۔ عراقی کابینہ نے پارلیمان کو سفارش بھیجی ہے کہ عراقی سرزمین میں موجودہ اجنبی ملکوں کے اڈوں کی بندش کا اہتمام کرے یا ان ممالک کے ساتھ ان اڈوں کے قیام کے سلسلے میں منعقدہ معاہدات کو منسوخ کیا جائے یا ان کی تجدید سے اجتناب کرے۔ ایک اعلی عراقی اہلکار نے کہا: حکومت عراق کا مقصد وہ معاہدے ہیں جو 1995 کے ترک عراق معاہدے کے تحت صدام نے ترکی کے حوالے کئے تھے اور یہ اڈے شمالی عراق کے علاقوں صوبہ دہوک میں العمادیہ شہر سے 45 کلومیٹر دور "بامرنی"، اسی شہر سے 40 کلومیٹر دور "غیریلوک" نیز دہوک سے 115 کلومیٹر دور "کانیماسی" اور زاخو شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقعے "سیرسی" میں واقع ہیں۔ القاعدہ کے 6000 افراد شام میں؛ مغرب شام کو منہدم کرنا چاہتا ہےمشرق وسطی تحقیقات مرکز کے سربراہ نے کہا: شام کو منظم انداز میں تباہ کرنا ایک مغربی منصوبہ ہے اور مغربی ممالک نے ابھی سے ـ لیبیا کی مانند ـ ویران شدہ شام کی تعمیر نو کے منصوبے آپس میں بانٹ دیئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق بیروت میں مقیم مشرق وسطی تحقیقات مرکز کے سربراہ ہشام جابر نے کہا ہے کہ مغربی ممالک نے لیبیا کی طرح شام کو بھی مکمل طور پر تباہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے اور ابھی اس کی تعمیرنو کے لئے مارشل پلان تیار کرکے تعمیری منصوبے آپس میں بانٹ لئے ہیں۔انھوں نے کہا: مغرب شام کے بحران کا پرامن حل نہیں چاہتا لیکن سب کو جان لینا چاہئے کہ حتی بیرونی فوجی مداخلت کی صورت میں بھی شام کے مسئلے کا فوجی حل ممکن نہيں ہے کیونکہ اس طرح کی مداخلتیں بحران کو حل کرنے کے بجائے اس کو مزید الجھانے کا سبب بنیں گی۔ انھوں نے کہا کہ حکومت شام کے مخالفین فوجی تناؤ کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے ہیں تا کہ اگر کبھی مذاکرات ہوئے تو وہ طاقتور موقف اپنا کر زیادہ رعایتیں حاصل کرسکیں۔ انھوں نے کہا: شام کی فوج ملک کا اتحاد اور سالمیت چاہتی ہے اور مسلح ٹولے اس ملک کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں چنانچہ مسلح ٹولوں کا فوج سے موازنہ کرنا، درست نہيں ہے کیونکہ اس وقت مغرب اور عرب ممالک نے القاعدہ کے 6000 عناصر کو شام میں فعال کردیا ہے اور اس ملک میں سترہ تکفیری ٹولے بھی سرگرم عمل ہیں جن کی مجموعی تعداد تقریبا 6000 ہے۔جابر نے کہا: یہ تمام گروپ خاص خاص اہداف کے لئے کام کررہے ہیں اور سب کو خلیج فارس تعاون کونسل کی رکن ریاستوں اور اس علاقے کے تاجروں اور سرمایہ داروں کی حمایت حاصل ہے انھوں نے کہا: امریکہ ایک طرف سے شام کی حکومت کو مسلح گروپوں کو استعمال کرکے، ختم کرنا چاہتا ہے لیکن اسی اثناء میں وہ اپنے عوام کو یہ بات منوانے سے عاجز ہے کہ القاعدہ کو بھی شام کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ امریکی حکومت نے القاعدہ کو امریکہ کا دشمن نمبر ایک کے عنوان سے متعارف کرایا ہے اور اب یہ ثابت کرنا ممکن نہیں ہے کہ "القاعدہ امریکہ کی دوست ہے!"۔ انھوں نے کہا: دسمبر میں امریکی صدارتی انتخابات ہورہے ہیں چنانچہ وہ سال کے آخر تک شام کے بارے میں کوئی اٹل فیصلہ کرنے سے عاجز ہے لیکن ترکی سمیت امریکہ کے علاقائی حلیف امریکہ کی طرف سے مسلح دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ترکی شام میں شکست کھا گیا ہے اسی وجہ سے اس نے "آگے کی جانب فرار" کی پالیسی اپنا رکھی ہے اسی وجہ سے اس نے شام کے خلاف عجلت زدگی میں موقف اپنایا لیکن بالآخر سمجھ گیا کہ وہ کوئی فوجی اقدام انجام دینے سے عاجز ہے۔ ......../110