اہل البیت (ع) نیوز ایجینسی- ابنا - کی رپورٹ کے مطابق جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے سابق رکن شوری ابراہیم المدہون نے کہا ہے حالیہ دنوں میں ایک بحرینی نوجوان اور پھر جیل میں ایک سیاسی قیدی کی شہادت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصلاحات کے سلسلے میں آل خلیفہ کے وعدے جھوٹے ہیں اور بحرین کی عدالتوں میں نمائشی عدالتی کاروائیاں بھی جنیوا کی انسانی حقوق کانفرنس میں آل خلیفہ کی طرف سے عالمی برادری کو دیئے گئے وعدوں سے تضآد رکھتی ہیں۔انھوں نے کہا: پرامن مظاہرین کو قتل کرنا اور میڈیکل اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو ـ زخمیوں کو علاج معالجے کی سہولیات بہم پہنچانے کے جرم میں ـ اور اسپورٹس سے وابستہ افراد کو ـ پرامن مظاہروں میں شرکت کرنے کے جرم میں ـ سزائیں دینا اس بات کی دلیل ہے کہ آل خلیفہ خاندان غلط راستے پر گامزن ہے۔انھوں نے کہا: ہم نے عالمی برادری کو بحرین میں ہونے والے جرائم سے پوری طرح آگاہ کردیا ہے لیکن عالمی برادری پھر بھی آل خلیفہ کے استبدادی خاندان کے ان اقدامات کے مقابلے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور ہم اس عالمی رویئے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا: آل خلیفہ کے اذیتکدوں میں قید تمام اسیر صرف اور صرف اپنے عقیدے اور سیاسی رائے کے اظہار کی وجہ سے پابند سلاسل ہیں اور ان کا ایک بڑا جرم (!) یہ ہے کہ وہ بحرین کے موجودہ آئین کے مطابق ملک میں جمہوریت کے قیام کے بارے میں اظہار خیال کرچکے ہیں۔انھوں نے کہا: بحرینی عوام کے تمام طبقوں کو مساوات اور حق و عدل کی بنیاد پر زندگی کا حق حاصل ہے جبکہ یہاں عدلیہ سیاسی ادارے میں تبدیل ہوچکی ہے جو آئین کی خلاف ورزی کررہی ہے اور بحرین کی نام نہاد پارلیمان بھی عوام خواہشات کے مطابق عمل نہیں کررہی ہے۔
.....
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: