28 ستمبر 2012 - 20:30

فرانس 24 ٹی وی چینل سے وابستہ ویب بیس نے ایک رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ "سلفی تفکر" آج سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کے ستون میں بدل چکا ہے اور آل سعود کی حکومت سلفی تفکر کو ترویج دے کر در حقیقت بلادالحرمین کے عوام کے مطالبات، ایران کے مسئلے اور تشیع اور اخوان المسلمین جیسے مسائل کا سامنا کرنے کے لئے استعمال کررہی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فرانس 24 کے نامہ نگار و قلم کار "سفیان الفجری" نے "سعودی عرب عالم عرب میں سلفیوں کو کس کس طرح استعمال کرتا ہے؟"، کے عنوان سے ایک مضمون میں لکھا ہے: "سلفیہ" سے مراد اعتقادی، فکری اور عبادی مسائل میں تیدیلی کی طرف اعتراض آمیز رجحاج ہے۔الفجری نے اپنی رپورٹ میں سلفی گروپوں کے بارے میں مطالعہ کرنے والے مرااکشی محقق "عبدالحکیم ابواللوز" کے حوالے سے لکھتے ہیں: وہابی سلفی اقتدار کی جنگ کے مسئلے میں، اہم سمجھے جاتے ہیں اور اس مدعا کے نمونے یمن، مصر اور کویت میں دیکھے جاسکتے ہیں لیکن شام سمیت دوسرے ملکوں میں رہنے والے سلفی وہابی سیاست کے میدان میں داخل ہونے کے لئے جنگ اور خونريزی کے راستے پر گامزن ہیں۔ابواللوز کہتے ہیں: تمام سلفی وہابی گروپ آپس کے اختلافات کے باوجود سعودی عرب سے وابستہ ہیں اور سعودی حکومت کے تحت آنے کے بعد بلاد الحرمین کی سرزمین سلفی تفکر کا گہوارہ بن چکی ہے ... محمد بن عبدالوہاب اور محمدبن سعود نے ابتداء میں نجد کے علاقے میں متحد ہو کر سلفی ـ وہابی تفکر کی بنیاد رکھی اور سعودی حکومت آج دنیا میں سلفی ـ وہابی تفکر کے پہلے درجے کی رہنما سمجھی جاتی ہے۔الفجری کے مطابق، اسلامی اور جہادی گروپوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار "عبداللہ الرامی" کا کہنا ہے ہے: بلادالحرمین کے مولوی اور مفتی حضرات اقتدار میں آل سعود کے ساتھ شریک ہیں اور انہیں بہت زيادہ اثر  و رسوخ اور طاقت حاصل ہے اور آل سعود کے ساتھ رجال دین کے اس اتحاد کا مقصد یہ ہے کہ ملک کو متحد رکھا جائے اور پڑوسیوں کا مؤثر مقابلہ کیا جاسکے۔الرامی کا کہنا تھا: آل سعود خاندان اس وقت جس مسئلے کا سامنا کررہا ہے وہ جمہوریت، سول اور علمانی (سیکولر) حکومت ہے جو عرب پڑوسیوں کی جانب سے ریاض کی طرف رواں دواں ہے اور اسی بنا پر آل سعود سے وابستہ وہابی مفتی مسلسل فتوے دے رہے ہیں کہ "جمہوریت حرام ہے"۔ ان کے بقول آل سعود خاندان کا دوسرا اہم مسئلہ ایران اور تشیع ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد علاقے اور عالم اسلام کی مذہبی قیادت کے اوپر نزاع پیدا ہوا خاص طور پر اس لئے بھی کہ ایران ایک طاقتور ملک بھی ہے اور چونکہ علاقے کے تمام ممالک میں شیعہ اقلیتیں موجود ہیں اسی وجہ سے اس قیادت کا عہدہ سنبھالنے کے لئے ایران کے پاس زيادہ مواقع ہیں۔الرامی نے کہا ہے کہ سعودی حکومت کو درپیش تیسری بڑی مشکل اخوان المسلمین ہے۔ اخوان المسلمین کی طاقت روز بروز بڑھ رہی ہے اور یہ مسئلہ سعودی حکومت کے لئے مسائل کا باعث ہوسکتا ہے کیونکہ اخوان المسلمین قدرت مطلقہ (مطلق العنان اور استبدادی حکومت) کی قائل نہيں ہے اور مقتدر قوتوں پر تنقید کو جائز سمجھتی ہے۔ چنانچہ آل سعود نے اپنی کوششیں بلادالحرمین سے باہر مرکوز کی ہوئی ہیں کیونکہ مذکورہ تیں مشکلات کی جڑيں باہر ہیں اور اسی وجہ سے سلفی ـ وہابی تفکر سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی ترجیح میں تبدیل ہوچکی ہے۔ سفیان الفجری ان حوالوں کے بعد لکھتے ہیں: آل سعود خاندان نے سلفی تفکر کو فروغ دینے کے لئے بڑی رقوم خرچ کی ہوئی ہیں اور اس تفکر کو تقویت ملی ہے اور پھر اس تفکر کے علمبرداروں نے بلادالحرمین سے باہر کے ممالک میں روابط پیدا کئے ہیں اور یوں علاقے کے ممالک میں سعودیوں کے بیرونی تعلقات کو فروغ ملا ہے تا کہ ان مشکلات سے نمٹا جاسکے جو آل سعود کے خیال میں، باہر سے ان کی حکومت کے لئے پیدا ہوئی ہیں۔........./110