27 ستمبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سڑسٹھویں سالانہ اجلاس کے موقع پر مختلف یورپی ، ایشیائي اور افریقی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقاتوں میں بین الاقوامی اور علاقائي حالات کا جائزہ لیا۔

ابنا: علی اکبر صالحی نے روس کے وزیر خارجہ سرگئي لاوروف کے ساتھ جمعرات کے روز ہونے والی ملاقات میں اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا اور عالمی اور علاقائی معاملات میں ناوابستہ تحریک کے اہم اور مؤثر کردار پر زوردیا۔علی اکبر صالحی نے یوکرین کے وزیر خارجہ  کونسٹنٹین گریشنکو سے بھی ملاقات کی۔اس ملاقات میں یوکرینی وزیر خارجہ نے ایران کو ناوابستہ تحریک کی سربراہی ملنے پر مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اس بات کے پیش نظر کہ یہ تحریک اقوام متحدہ کے بعد سب سے بڑی تنظیم ہے ایران کی ذمہ داریاں اہمیت کی حامل ہیں۔
ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ علی اکبر صالحی اور حنا ربانی کھر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات میں فروغ پر زور دیا گيا اور شام اور افغانستان سمیت علاقائي اور بین الاقوامی حالات کا بھی جائزہ لیا گیا۔دونوں لیڈروں نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے اور بجلی ، توانائي اور زراعت کے شعبوں میں تعاون کے بارے میں بھی بات چیت کی۔
لیبیا کے وزیر خارجہ عاشور بن خیال کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں علی اکبر صالحی نے دو طرفہ تعلقات میں فروغ پر زور دیا۔عمان کے وزیر خارجہ یوسف بن علوی نے ایرانی وزیرخارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تہران مسقط تعلقات کو نزدیکی اور دوستانہ قراردیا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں فروغ پر زوردیا۔ایران اور عمان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں علاقائی حالات اور تعاون ، خاص طور سے ، بحران شام کے بارے میں بھی بات چیت ہوئي اور دونوں لیڈروں نے شام کے اقتدار اعلی ، ارضی سالمیت اور اتحاد و یکجہتی کو باقی رکھتے ہوئے سیاسی دائرے میں مختلف کوششوں میں ہم آہنگی کے ذریعہ بحران شام کے حل میں مدد کی ضرورت زوردیا۔
اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ نے جاپانی وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں ایران کے ایٹمی معاملے سمیت دو طرفہ تعلقات ، مشترکہ تعاون اور تازہ ترین علاقائي اور عالمی حالات کے بارے میں بات چیت کی۔ایران اور اسپین کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو مثبت اور دوستانہ قراردیا گيا اور اہمیت کے حامل علاقائي اور بین الاقوامی مسائل پر بات چیت ہوئي نیز ایران کے ایٹمی معاملے پر بھی دونوں لیڈروں نے تبادلۂ خیال کیا۔اس ملاقات میں یورپ میں اقتصادی بحران سے متعلق بھی بات چیت ہوئي اور توانائي ، تجارت اور مشترک سرمایہ کاری کے شعبوں میں ایران اور اسپین کے درمیان اقتصادی تعاون کا بھی جائزہ لیا گیا۔
علی اکبر صالحی نےنیویارک میں اپنے قیام کے دوران جارجیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملامات کی جس میں جارجیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور جارجیا کے تعلقات مثالی ہیں اور ہم ان تعلقات میں فروغ کے خواہاں ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے سوئیڈن ، ناروے ، ہالینڈ ، سنگاپور اور الجزائر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں بھی دو طرفہ تعلقات اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں بات چیت کی اور ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام بھی زیربحث آیا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سڑسٹھواں سالانہ اجلاس اسلامی جمہوريۂ ایران سمیت دنیا کے ایک سوبیس ممالک کے اعلی حکام کی موجودگي میں گزشتہ منگل کو شروع ہوا تھا اور یکم اکتوبر تک جاری رہے گا۔
.....
/169