22 ستمبر 2012 - 20:30

حج و زیارت بورڈ میں ولی فقیہ کے نمائندہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ حج کی اھم سیاسی برکتوں میں سے عالم اسلام کی مشکلات کا حل کیا جانا ہے کہا: سربراہوں، سیاستمداروں اور عالم اسلام کی معروف شخصیتوں سے ھماری درخواست ہے کہ ھر سال حج کے موسم میں کئی روزہ کانفرنس منعقد کریں اور اسلامی دنیا و مختلف ممالک کی مشکلات کا حل نکالیں۔

ابنا: حج و زیارت بورڈ میں ولی فقیہ کے نمائندہ حجت الاسلام والمسلمین سید علی قاضی عسکر نے خطبہ نماز جمعہ سے پہلے شبستان امام خمینی(رہ) حرم کریمہ اهل بیت حضرت معصومہ قم میں تقریر کرتے ہوئے کہا: اج دشمن، امت اسلامیہ کے درمیان گہرا شگاف پیدا کرکے دنیا میں پھیل رہی اسلامی بیداری کو روکنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

حج و زیارت بورڈ میں ولی فقیہ کے نمائندہ نے مزید کہا: شیعہ وسنی اختلاف اور ایک دوسرے کے دلوں میں خوف ڈالنا تفرقہ اندازی کا ایک دوسرا راستہ ہے، جیسا کہ رھبرمعظم انقلاب اسلامی ایران نے فرمایا؛ ھم دشمن کی سازشوں کے مقابل ھوشیاری سے کام لیں۔

حجت‌الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حج کی سیاسی برکتیں فراوان ہیں کہا: اس کی ایک برکت اسلامی دنیا کی مشکلات کا حل کیا جانا ہے، اور اگر حج کو صحیح طریقہ سے انجام دینے کا موقع مل پاتا تو اسلامی دنیا کی صورت حال کچھ اور ہوتی۔

انہوں نے حج کی موقعیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسلامی دنیا کے سربراہان، ممتازین، سیاستمداران اور بزرگ شخصیتیں ھر سال حج میں کئی کانفرنسیں منعقد کریں اور عالم اسلام و مختلف ممالک کی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

حج و زیارت بورڈ میں ولی فقیہ کے نمائندہ نے ناوابستہ کانفرنس کے سات سو مصوبات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حج میں بھی اسی طرح عمل کیا جائے اور مفکرین، ماھرین اور عالم اسلام کے ممتازین اس کانفرنس میں دنیائے اسلامی کی سیاسی، اقتصادی، سماجی، ثقافتی مشکلات کے حل میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور اسلام کی عظمت و بلندی میں اضافہ کا سبب بنیں۔

حجت ‌الاسلام والمسلمین قاضی عسکر نے اسلامی ممالک کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا: اگر اسلامی ممالک اتحاد کے ذریعہ اپنی طاقت کا مظاھرہ کراتے تو دیوانے اسلامی مقدسات کی توھین نہ کرپاتے۔

انہوں نے اسلامی مقدسات کی توھین کو ازادی بیان کے موافق بیان کئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: کون سی ازادی؟ جب آپ کے ممالک میں ھلو کاست کے سلسلہ میں کچھ کہا جاتا تو اسے فورا گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

.......

/169