21 ستمبر 2012 - 20:30

امریکی انتظامیہ نے ایران پر حملے کے سلسلے میں صہیونیوں کو سنجیدہ طور پر خبردار کیا ہے / ایران پر حملے کے حوالے سے صہیونی کو شدید تشویش ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ "القدس العربی" نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ امریکی حکومت نے صہیونی ریاست کے وزیر اعظم کو سنجیدہ انداز سے متنبہ کرتے ہوئے، گوش گزار کرایا ہے کہ ایران پر کسی قسم کا حملہ اردن، مصر اور خودمختار فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اسرائیلی معاہدوں کی فوری منسوخی کے مترادف ہے جس کے بعد اس ریاست کو عوامی غیظ و غضب سے بھرپور انقلابوں کا سامنا ہوگا۔القدس العربی نے مزید لکھا ہے کہ اگر اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کا فیصلہ کرتا ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کے بارے میں نہيں بلکہ جنگ کے بارے میں سوچ رہا ہے کیونکہ اگر اسرائیل ایران پر حملے سے بچ کر نکل بھی جائے تو اس کے پڑوسیوں کے خلاف لڑنا پڑے گا؛ گوکہ امریکہ کو یقین نہیں ہے کہ اسرائیل ایران پر حملے کی صورت میں محفوظ رہ سکے گا۔ اس اداریئے میں لکھا گیا ہے کہ امریکی حکومت عظیم بحران میں مبتلا ہے اور امریکہ کا "چھوٹا حلیف" نیتن یاہو" اس بحران کا اصل سبب ہے۔ مغرور نیتن یاہو کو یقین ہے کہ وہ امریکہ کا حقیقی حکمران ہے اور اس کا یہ طرز فکر یہودی لابی کے سہارے وجود میں آیا ہے کیونکہ صہیونی لابی امریکہ میں تمام اہم اور مرکزی اداروں پر مسلط ہے اور کانگریس اور سینٹ میں بھی یہ لابی کافی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ القدس العربی نے سوال اٹھایا ہے کہ "اب عربوں کا مقام کہاں ہے؟ حقیقت میں، کہنا تو یہ چاہئے کہ عربوں کا اس حوالے سے کوئی مقام اور کوئی حیثیت نہیں ہے اور وہ منتظر بیٹھے ہوئے ہیں کہ دوسرے لوگ آکر ان کے مقدرات کا تعین کریں۔ادھر ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ ایک طرف سے یہودی ریاست کا وزیر اعظم ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں دے رہی ہے لیکن اس ریاست کے ہاتھوں مقبوضہ فلسطین میں بسائے گئے صہیونیوں کو ممکنہ حملے کے نتائج سے شدید قسم کے اندیشے لاحق ہیں۔العالم کے مطابق فلسطین میں صہیونی نوآبادیوں کے 77 فیصد باشندوں کا خیال ہے کہ ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملہ علاقے میں ایک بہت بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔یہ سروے ہیبرو یونیوسٹی سے وابستہ ٹرومین ریسرچ انسٹٹیوٹ فار دی ایڈوانسمنٹ آف پیس (Truman Research Institute for the Advancement of peace) اور رام اللہ میں فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ (Palestinian Center for Policy and Survey Research) کے تعاون سے انجام پائے ہے۔  اس سروے کے مطابق جواب دینے والوں میں سے ستر فیصد کا خیال ہے کہ غاصب ریاست امریکی تعاون کے بغیر ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کی اہلیت نہيں رکھتی۔ ادھر صہیونی افواج کی نااہلی 2006 میں لبنان پر حملے کے دوران حزب اللہ سے شکست کھا کر اور پھر غزہ میں حماس سے شکست کھا کر طشت ازبام ہوچکی ہے جس سے سروے میں جواب دینے والوں کی یہ بات بھی ناقابل قبول ہوجاتی ہے کہ صہیونی ریاست امریکی تعاون کی صورت میں ایران پر کامیاب حملہ کرسکتا ہے کیونکہ ان دو جنگوں میں امریکہ اور یورپی ممالک کی تمامتر فوجی، مالی اور انٹیلجنس امداد صہیونی ریاست کو حاصل تھی اور دوسری طرف سے لبنان اور فلسطین میں مزاحمت تحریک کے دستی میزائلوں کے مقابلے میں بھی صہیونی ریاست کی نااہلی ثابت ہوچکی ہے چنانچہ کہا صہیونی آبادکاروں کو اس سے بھی زيادہ تشویش میں مبتلا ہونا چاہئے کیونکہ اگر یہ ریاست ایران کے خلاف جنگ میں ملوث ہوجائے تو بعید از قیاس نہيں ہے کہ فلسطینی سرزمین سمیت دوسری مقبوضہ سرزمینوں میں صہیونی ریاست کی موجودگی ختم ہوکر رہ جائے گی اور یہ ریاست تاریخ کے ایک سیاہ باب کی مانند ہمیشہ کے لئے ختم ہوکر رہ جائے گی۔.........../110