ابنا: سڑکوں پر لگے سائن بورڈ اکھا ڑ دیئے،دکانوں کے شٹر توڑ دیئے،ہتھ ریڑھیاں زمین پر گرا دیں ۔امریکہ کے خلاف شدید نعرہ بازی،صبح 9بجے سے ہی مظاہرین سڑکوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔۔11بجے احتجاج شدت اختیار کر گیا،نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد بھر پور طریقے سے احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے .
پشاور ... پورے ملک میں گستاخانہ فلم کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے جبکہ پشاورمیں یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر عوام کی جانب سے گستانہ فلم کے خلاف شدید احتجاج کیاگیا اور ا س دوران دو سینما نذرآتش کر دی گئی جبکہ پولیس کی جانب سے مظاہرین پر سیدھی فائرنگ سے ایک نجی ٹی وی اے آر وائی کا ملازم جاں بحق ہو گیا۔اطلاعات کے مطابق صبح سے ہی لوگوں نے جی ٹی روڈ کی طرف رخ کیا اور اس دوران پولیس کی بھاری نفری پہلے سے ہی الرٹ تھی تاہم پولیس بعض مقامات پر مظاہرین کو روکنے میں بے بس نظر آئی ۔ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاورمیں بھی یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر عوام کی جانب سے بنائی گئی گستاخانہ فلم کے خلاف شدید احتجاج کیاگیا ۔مختلف علاقوں سے لوگوں نے صبح 9 بجے کے بعد گھروں سے نکل کر جی ٹی روڈ کا رخ کیا ۔10 بجے تک مظاہرین کی بڑی تعداد ہشت نگری،فردوس،خیبر بازار،شعبہ ،صدر،یونیورسٹی،ابدرہ اور تہکال سمیت دیگر مقامات پر جمع ہو چکی تھی تاہم پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ 11 بجے کے بعد شروع ہوا جب ہشت نگری سے مظاہرین کا ایک بڑا جلوس فردوس کی طرف بڑھا اور شبستان سینما جو جناح پارک اور قلعہ بالا حصار کے قریب ہدکانوں کے دروازے بھی توڑ دیئے ی واقع ہے کو نذر آتش کر دیاگیا ۔سینما پر لوگوں نے دھاوا بولتے ہوئے تمام پوسٹر اتار کر آگ میں پھینک دیئے جبکہ کرسیاں ،میزیں زمین سے اکھاڑ دیں ۔برقی قمقموں کو بھی توڑ دیاگیا ۔سینما کے مین گیٹ کو توڑنے ہوئے بڑی تعداد میں مظاہرین ہال کے اندر بھی پہنچ گئے جہاں انہوں نے کافی توڑ پھوڑ کی اور بعد ازاں باہر نکل کر قریبی ۔دوسری جانب باچاخان چوک کی طرف مظاہرین نے جب رخ کیا تو پجگی کی طرف سے آنے والے مظاہرین بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اس دوران پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال بھی کیاگیا تاہم مظاہرین باچاخان چوک سے کچھ قدم آگے واقع ایک اور سینما پر ٹوٹ پڑے جہاں شدید توڑ پھوڑ کی اور سینما سے کرسیاں ،فریج ،موٹرسائیکل اور دیگر سامان اٹھا کر باہر لے آئے اور بعض عینی شاہدین کے مطابق سینما میں لوٹ مار بھی کی گئی ۔پولیس اس دوران بے بسی کی تصویر بنی نظر آئی اور مظاہرین کو پیچھے سے کھڑے دیکھتے رہے تاہم مظاہرہ جب شدت اختیار کرنے لگا تو پولیس لاٹھی چارج کی راہ اپنائی گئی اس دوران مظاہرین کچھ پیچھے ہٹ گئے تاہم بعد ازاں پھر متحرک ہو گئے اور سینما کے اوپر تک پہنچ گئے جہاں لگے تمام پوسٹرز پھاڑ دیئے اوپر موجود تمام کرسیاں نیچے گرا دیں میزوں کو زمین پر رکھ کے توڑا گیا ۔دوسری جانب ہشت نگری سمیت دیگر علاقوں میں جی ٹی روڈ پر لگے سائن بورڈز بھی اکھاڑ دیئے گئے ۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مظاہرین پھر سے متحرک ہوئے اور مختلف علاقوں میں شدید احتجاج کیا ۔دکانوں کے شٹر توڑے ۔ہتھ ریڑھیاں جہاں ملیں انہیں زمین پر گرا دیا جبکہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی ابھی تک جاری ہے۔
.....
/169