ابنا: ايران کے ايٹمي ادارے کے سربراہ اور ايٹمي معاملوں ميں صدر جمہوريہ کے مشير ڈاکٹر فريدون عباسي نے پير کي شام ويانا ميں ايٹمي توانائي کي بين الاقوامي ايجنسي آئي اے اي اے کي جنرل اسمبلي کے اجلاس کے موقع پر نامہ نگاروں سے گفتگو ميں گزشتہ برسوں ميں ايران کي ايٹمي کاميابيوں کا ذکر کيا اور کہا کہ يہ کاميابياں ان پابنديوں کے عالم ميں حاصل ہوئي ہيں جو بعض مغربي ممالک نے لگا رکھي ہيں اور اس خام خيالي ميں مبتلا ہيں کہ يہ پابندياں ايران کي کمر توڑ ديں گي۔
ڈاکٹر فريدون عباسي نے کہا کہ پابنديوں کي وجہ سے بيس فيصدي کے گريڈ تک افزودہ يورينيم عالمي بازار سے حاصل نہ کر پانے کے باعث ايراني ماہرين نے اپنے بل بوتے پر بيس فيصدي کے گريڈ کا يورينيم افزودہ کر ليا اور تہران کے ايٹمي تحقيقاتي ري ايکٹر کي ضرورت کا ايندھن تيار ہو گيا۔
ڈاکٹر عباسي نے کہا کہ بنيادي طور پر ايران ساڑے تين فيصدي کے گريڈ کا يورينيم افزودہ کرتا ہے اور بيس فيصدي گريڈ کا يورينيم ايران نے نيوکليئر ميڈيسن تيار کرنے کے لئے افزودہ کيا ہے۔
ڈاکٹر عباسي نے کہا کہ ايران کا ماضي ميں بيس فيصدي گريڈ کا يورينيم افزودہ کرنے کا ارادہ نہيں تھا اور اب ايران بيس فيصدي سے زيادہ سطح کا يورينيم افزودہ کرنے کا کوئي ارادہ نہيں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ماضي ميں تہران ري ايکٹر کي ضرورت کا يورنيم حاصل کرنے ميں رکاوٹيں ايجاد نہ کي گئي ہوتيں تو ايران ہرگز بيس فيصدي گريڈ کا يورينيم افزودہ نہ کرتا۔
.....
/169