15 ستمبر 2012 - 19:30

علماء اور راہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاراچنار میں بم دھماکے اور دہشت گردی علاقے میں ملک دشمن طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتے ہیں، حکومت نے اگر ان عناصر کا راستہ نہ روکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

ابنا: کرم ایجنسی کے علماء کرام اور شیعہ رہنماؤں علامہ ہلال حسین، علامہ احمد حسین، تحریک حسینی کے صدر منیر حسین، محمد تقی اور دیگر نے کہا ہے کہ پاراچنار میں بم دھماکے اور دہشت گردی علاقے میں ملک دشمن طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی نشاندہی کرتی ہے، حکومت نے اگر ان عناصر کا راستہ نہ روکا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاراچنار میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے پاراچنار کار بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مکمل تحقیقات کرنے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل فروری کے مہینے میں ہونے والے خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری فضل سعید حقانی نے قبول کی تھی، جس کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اب اس دھماکے کی ذمہ داری الغازی گروپ کے نام سے قبول کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاراچنار جیسے چھوٹے شہر میں جس کے تمام داخلی راستوں پر سکیورٹی اہلکار متعین ہیں بارودی مواد سے بھری گاڑی کا داخل ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایجنسی کی انتظامیہ، اداروں اور سکیورٹی فورسز کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیٹیکل انتظامیہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔انھوں نے کہا: طوری بنگش قبائل نے پاکستان کے لئے بیش بہا قربانیں دی ہیں اور آئندہ بھی دیتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں، آخر حکومت دہشت گردوں کیخلاف ٹھوس کارروائی سے کیوں کترا رہی ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پولیٹیکل انتظامیہ فضل سعید حقانی اور اس کے نیٹ ورک کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے، بصورت دیگر ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں۔ ہمیں دھوکے میں مارا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ گویا سکیورٹی فورسز شہر کے اطراف میں جانفشانی سے ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے جس کا بَیِّن ثبوت سکیورٹی فورسز کے ہوتے ہوئے دو بڑے واقعات کا رونما ہونا ہے. انہوں نے کہا کہ ہم امن پسند قوم ہیں، مگر اس کے باوجود پاکستان بھر میں ہماری نسل کشی جاری ہے، جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومتی کارروائی کا انتظار ہے، اگر حکومت نے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے تو ہم مجبوراً اپنے دفاع کیلئے لائحہ عمل طے کریں گے۔...../169 ـ 110