10 ستمبر 2012 - 19:30

ایس یو سی خیبر پختونخوا کے صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دہشتگرد جب چاہیں، جہاں چاہیں دہشتگردی کی کارروائی کر دیتے ہیں، انہیں روکنے والا کوئی نہیں، حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

ابنا:  شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے پارا چنار میں بم دھماکہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، آج کا سانحہ اس خطہ کی پرامن فضاء سبوتاژ کرنے کی سازش ہے، ملت تشیع کے صبر کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور فوری طور پر قتل و غارت گری کے اس سلسلے کو روکا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا سیکرٹریٹ سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا، ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت جنگل کا قانون ہے، دہشتگرد جب چاہیں، جہاں چاہیں دہشتگردی کی کارروائی کر دیتے ہیں، انہیں روکنے والا کوئی نہیں، حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تسلسل کیساتھ تشیع کا خون ناحق بہنا اس بات کی دلیل ہے کہ حکمران اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں یکسر ناکام ہو چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پارا چنار میں ہونے والا بم دھماکہ اس خطہ کا امن سبوتاژ کرنے کی سازش ہے، پارا چنار میں بسنے والے بے گناہ تشیع کا قتل عام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دہشتگردوں کو لگام دینے والا کوئی نہیں، علامہ رمضان توقیر نے کہا کہ پارا چنار سمیت گلگت بلتستان، کوئٹہ اور کراچی میں مسلسل اہل تشیع کا قتل عام مقتدر حلقوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ملک و اسلام دشمن قوتوں نے اپنی منحوس نظریں وطن عزیز پر گاڑھ لی ہیں، پاکستان کے شیعہ سنی عوام ملکر ہی دشمنوں کے ان مزموم عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں، آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کو روکا جائے اور سانحہ پارا چنار اور دہشتگردی دیگر واقعات کی اعلٰی سطحی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
.....
/169