9 ستمبر 2012 - 19:30

سب سے زیادہ محب وطن قبائلی ایجنسی میں ایک بار پھر محب وطن شیعہ عوام کے خون سے ہولی کھیلی گئی؛ امن کے نام پر دہشت گردوں کو پاراچنار میں بسانے سے اب تک یہ دوسرا بڑا بم دھماکہ تھا جبکہ پشاور روڈ پر نہتے مسافروں پر حملے بھی باقاعدہ طور پر رک نہيں سکے ہیں/ ریڈيو تہران کے مطابق شہداء کی تعداد 20 ہوگئی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی (ابنا) کی رپورٹ کے مطابق پاراچنار کے محب وطن شیعیان اہل بیت (ع) کو ایک بار پھر اپنی خیرسگالی اور حب الوطنی کی سزا دی گئی اور آج کے بم دھماکے میں اب تک 15 افراد شہید اور 50 زخمی ہوچکے ہیں اور شہداء کی تعداد میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔یہ دھماکہ کار اسٹینڈ پر ہوا جس سے 10 دکانیں بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جبکہ بازار میں خرید و فروخت کے لئے آنے والے افراد بھی اس کی زد میں آگئے۔پولیٹیکل انتظامیہ کے مطابق دھماکہ خیز مواود گاڑی میں رکھا گیا تھا۔ گوکہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے مدعی سست گواہ چست کا مصداق بن کر اس دھماکے کو خودکش قرار دیا جو کہ درحقیقت پاکستانی حکام کا وطیرہ ہے اور وہ بدامنیوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانے کی غرض سے تمام دھماکوں کو خودکش ظاہر کرتے ہیں۔دھماکے کے شہداء اور زخمیوں کو عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت اسپتال منتقل کیا جبکہ مقامی انتظامیہ نے نمائشی اقدامات کرتے ہوئے علاقے کو محاصرے میں لیا اور کرفیو نافذ کیا جس کے باعث زخمیوں کو امداد پہنچانے میں رکاوٹ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ عجب یہ کہ دہشت گردوں کو پاراچنار منتقل کرتے ہوئے حکومت کو اس بات کی ضرورت کبھی محسوس نہيں ہوئی کہ یہ بالفطرہ درندے پھر بھی اپنی درندگی جاری رکھیں گے کیونکہ ان کی بھاگیں بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں ہیں یا پھر ان اندرونی قوتوں کے ہاتھ میں جو پاکستان کو اس کے بانیوں اور محبین سے خالی کرنے کی ہرزہ سرائیوں میں مصروف ہیں اور جان کر یا انجانے میں عالم کفر و استکبار اور یہودی ریاست کی خدمت کررہے ہیں۔واضح رہے جب سے دہشت گردوں اور پانچ سالہ جنگ شروع کرنے والوں اور 5 سال تک پاراچنار کی ناکہ بندی کرنے والوں کو حکومت نے پاراچنار میں لوٹایا تو اس اقدام کو امن پسندانہ اقدام کا نام دیا گیا اور اس اقدام کو امن قائم کرنے کے نام پر عمل میں لایا گیا لیکن اس زمانے سے اب تک پاراچنار میں یہ دوسرا بڑا دھماکہ تھا جبکہ پاراچنار ـ پشاور کی نام نہاد قومی شاہراہ پر نہتے شیعہ مسافروں پر حملوں کا سلسلہ اب تک باقاعدہ طور پر بند نہيں ہوا اور ان حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔یاد رہے کہ پاراچنار میں دھماکہ ہوتے ہی بجلی بھی بند کی گئی اور پی ٹی سی ایل نیز تمام موبائل لائنوں کو بھی بند کردیا گیا جبکہ یہ تمام ادارے حکومت کے ہاتھ میں ہیں اور پاراچنار یا پاکستان کے کسی اور حصے میں کوئی بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہے کہ موبائل اور پی ٹی سی ایل سروسز بھی دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہوسکتے ہیں گوکہ یہ احتمال (یا بعض حلقوں کے نزدیک "یقین") پایا جاتا ہے کہ دہشت گرد سیکورٹی اور دیگر اداروں میں بھی رسوخ کرچکے ہوں!!!

واضح رہے کہ ریڈيو تہران کے مطابق شہداء کی تعداد 20 ہوگئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 64 ہے۔

بعض شہداء کے نام شیعت نیوز سے مأخوذ:ہدایتسلمانسعید سید محمدخیال منتظر شریفسعیدسردار حسین ارشاد زاہد جبکہ ایک بچی سمیت تین افراد نامعلوم ہیں۔........./110