8 ستمبر 2012 - 19:30

مقبوضہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے کام کرنے والی عالمی اسلامی تنظیم‘‘انٹرنیشنل القدس فاؤنڈیشن’’ نے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ عرب علاقوں بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ تنظیم نے عالم اسلام اور عرب ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونیوں کے ہاتھوں مقبوضہ بیت المقدس میں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سخت نوٹس لیں اور بیت المقدس کے شہریوں کو ہرممکن تحفظ دلائیں۔

ابنا: ذرائع کے مطابق القدس فاؤنڈیشن نے بیروت میں اپنے ہیڈ کواٹر سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک سوچے سمجھے اور منظم منصوبے کے تحت مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ اس منصوبے کا اصل مقصد شہرسے مسلمانوں کے وجود کوختم کرنا اور ان کی جگہ انتہا پسند یہودیوں کو بسانا ہے۔ 

ادھر تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل یاسین حمود نے اپنے ایک الگ سے بیان میں بھی انتہا پسند یہودیوں کی بیت المقدس میں فلسطینیوں کےخلاف بڑھتی سرگرمیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے انتہا پسند یہودیوں کو فلسطینیوں پر حملوں کے لیے کھلی چھٹی دے رکھی ہے اور وہ دن دہاڑے فلسطینیوں کی جان ومال پرحملے کر رہے ہیں۔ 

شیخ یاسین حمود نے فلسطینی سماجی رہ نما اور مقبوضہ بیت المقدس میں مخطوطات اسلامی کے شعبے کے نگران شیخ بکیرات کی القدس بدری کے فیصلے کی بھی شدید مْذمت کی اور ان کی شہر بدری کافیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ 

شیخ حمود نے کہا کہ اسرائیل ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بیت المقدس کی نمائندہ شخصیات کو شہر سے بے دخل کرنے کے منصوبے پر گامزن ہے۔ اسی طرح کی ایک سازش کے تحت فلسطینی اراکین قانون ساز کونسل شیخ ابو طیر، محمد طوطح اور خالد ابو عرفہ کو شہر بدر کیا گیا اور اس کے بعد اب شیخ بکیرات کو بھی شہر سے نکال باہر کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
 
انہوں نے عالم اسلام سے مطالبہ کیا کہ وہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی نمائندہ شخصیات کی صہیونی حکومت کے ہاتھوں شہر بدری کو رکوائیں۔
.......
/169