7 ستمبر 2012 - 19:30

اسلامي جمہوريہ ايران نے کہا ہے کہ کينيڈا کي موجودہ حکومت خارجہ پاليسي کے ميدان ميں انتہا پسندانہ رويہ اپنائے ہوئے ہے -

ابنا: وزارت خارجہ کے ترجمان رامين مہمان پرست نے کہا ہے کہ کينيڈا کے وزير اعظم اسٹيفن ہارپر کي زيرقيادت کينيڈا کي حکومت کے ايران کے عوام اور حکومت کے خلاف متعدد مخاصمانہ اقدامات جن ميں تہران ميں کينيڈا کے سفارتخانے کو بند کرديا جانا ، کينيڈا ميں مقيم ايرانيوں کے بينک اکاؤنٹس کو منجمد کردينا، کينيڈا ميں مقيم ايراني طلباء کے لئے پيسوں کي فراہمي پر پابندي جيسے اقدامات شامل ہيں جو کينيڈين حکومت کي انتہا پسندانہ پاليسيوں کي چند ايک مثاليں ہيں –وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کینيڈا کي موجودہ نسل پرست حکومت کے مخاصمانہ اقدامات درحقيقت صہيونيوں اور برطانيہ کي حکومت ڈکٹيٹ کي گئي پاليسيوں پر عمل درآمد کا نتيجہ ہے-ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسي طرح کہا کہ کينيڈا کي حکومت نے تہران ميں ناوابستہ تحريک کے سربراہي اجلاس کو ناکام بنانے کےلئے اپني پوري کوشش صرف کي ليکن دنيا کے ملکوں اور سياسي شخصيات نے کينيڈا کي ان کوششوں کو کوئي اہميت نہيں دي اور اس کو ناکامي کا منہ ديکھنا پڑا - ايران کي وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کينيڈا کي حکومت کا ايران مخالف يہ تازہ ترين  يہ اقدام اپني شکست سے پريشان ہوکر جلد بازي ميں اٹھايا گيا ايک قدم ہے -......./169