4 ستمبر 2012 - 19:30

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ کوئٹہ میں قتل عام جاری ہے اور ہزارہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سات اہل تشیع افراد کو قتل کر دیا گیا لیکن نہ تو بلوچستان کی حکومت اور نہ ہی وفاقی حکومت کو ذرہ برابر بھی فرق پڑا ہے۔ انہوں نے ان ہلاکتوں کی شدید مذمت کی اور ان واقعات کو بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی اور اہل تشیع کی ایک منظم منصوبہ بندی کے ذریعے نسل کشی قرار دیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی نے ایک بار پھر ان واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ابنا: انہوں نے کہا کہ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب تک اس تنظیم کی قیادت اور اراکین کی نہ تو شناخت ہو سکی ہے اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے, جس سے انٹیلی جنس کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے اور اس معاملے پر بلوچستان حکومت کی بےبسی اور  وفاقی حکومت کی بےحسی واضح طور پر عیاں ہے۔ عمران خان نے کہا کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی قوم کے وجود کے خلاف ایک خطرے کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معمول کی بات نہیں کہ جسے نظر انداز کیا جا سکے، مگر حکومتی سطحوں پر ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جو عناصر بیرونی قوتوں کے کہنے پر ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں وہ جان بوجھ پر ملک میں بڑے پیمانے پر فرقہ ورانہ فسادات کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ ایسا معاملہ ہے جو ریاست کی انتہائی توجہ کا طالب ہوتا ہے، تمام ریاستی اداروں کی بھرپور کوششیں اس کے خلاف لڑنے اور خصوصی طور پر شیعہ ہزارہ افراد کے قتل میں ملوث مجرمان کو تلاش کرنے میں صرف ہونی چاہیں۔

چیئرمین عمران خان نے اپنے کوئٹہ دورے کے دوران ہزارہ کمیونٹی کی امام بارگاہ میں ملاقات کے دوران سنی گئی مظالم کی کہانیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اس نسل کشی کو برداشت نہیں کریگی اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کریگی، مگر پارٹی اس کے خلاف انتظامی طور پر اقدامات نہیں اٹھا سکے گی، کیونکہ یہ صرف حکومتی سطح پر کیا جاسکتا ہے اور حکومت اپنی اس ذمہ داری کو بھول چکی ہے.

......

/169