ابنا: رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بتائے گئے عرصے کے دوران مجموعی طور ایک ہزار، سات سو، پچیس افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں سے ایک ہزار، تین سو پینتالیس افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔
ایک سو چھیالس افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں میں ہلاک ہوئے۔ علاوہ ازیں اٹھہتر بچے اور ایک سو سات خواتین مختلف واقعات میں موت کا نشانہ بنیں۔
انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں ہلاکتوں کے بیان کردہ اعدادوشماراخباری رپورٹوں سے لیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق چونتیس افراد فرقہ وارانہ حملوں میں قتل ہوئے۔ دو چھبیس کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔ چار سو ترانوے غیر سیاسی لوگ ہلاک کیے گئے۔ دو سو ستائیس سیاسی کارکن مارے گئے۔
دو افراد کو جلا کر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ باون ڈکیتی کی وارداتوں میں مزاحمت پر مارے گئے۔ ایک سو سینتیس دشمنی کی بھینٹ چڑھے۔ سینتالیس لاشیں ملیں۔ سات سیکورٹی گارڈ ہلاک کیے گئے۔ پانچ قیدی جیل میں موت کا شکار ہوئے۔
گیارہ افراد بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔ گیارہ جانیں کارو کاری کے نام پر لے لی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران کراچی کے قدیم علاقے لیاری کی گینگ وار میں ترانوے زندگیوں کے چراغ گُل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران چھیاسٹھ افراد مشکوک پولیس مقابلوں میں ہلاک کیے گئے جب کہ تین پولیس حراست کے دوران موت سے ہمکنار کردیے گئے۔
انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس مدت کے دوران چھیاسٹھ پولیس اہلکار اور آٹھ فوجی اور پیراملٹری فورسز کے جوان بھی ہلاک ہوئے۔
رپورٹ میں احاطہ کی گئی مدت کے دوران اٹھہتر بچے بھی ہلاک ہوئے۔ ان میں سے سات کھلے ڈرین یا نہروں میں گر کر ڈوب گئے جب کہ سات کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا۔
آٹھ کو اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ چار بچے لیاری گینگ وار میں گولیوں کی زد میں آکر مارے گئے۔
دس بچوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ دو بچوں کی زندگیو ں کا چراغ کاروکاری کے نام پر ہونے والے قتل کی زد میں آکر گُل ہوا۔ سات نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملیں۔ دو مغوی بچوں کو تاوان کی وصولی کے باوجود قتل کردیا گیا۔ چودہ بچے اندھی گولیوں کا نشانہ بنے۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر ایک بچہ سپاہی یا پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار کے ہاتھوں قتل ہوا۔ تین بچے ٹرین تلے آکر موت کا شکار بنے اور ایک بچہ بم دھماکے کی زد میں آکر ہلاک ہوا۔
انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ رواں سال کے پہلے آٹھ ماں کے دوران کراچی میں ایک سو سات خواتین غیر طبعی موت ماری گئیں۔ ان میں سے اُنتالیس کو رشتہ داروں نے جب کہ اُنیس کو نامعلوم افراد نے قتل کیا۔
چارخواتین کو جلا کر ماردیا گیا جب کہ چار ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کے ہاتھوں موت کا نشانہ بنیں۔ چار خواتین لیاری گینگ وار کے دوران گولیوں کا نشانہ بنیں۔
پندرہ عورتوں کو کاروکاری کے الزام میں جب کہ اٹھارہ کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔ ایک خاتون اندھی گولی جب کہ ایک کو نشے کے عادی نے قتل کردیا۔ ایک خاتون بم دھماکے میں نشانہ بنیں، جب کہ ایک ریلوے لائن عبور کرتی ہوئے ٹرین کی زد میں آگئیں۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ کراچی میں رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران چالیس افراد مختلف واقعات میں ہلاک ہوئے۔ ان میں چھ نشے کے عادی افراد مردہ پائے گئے۔ گیارہ اندھی گولیوں کا نشانہ بنے۔
ریلوے لائن عبور کرتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر چودہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اٹھارہ افراد زہریلی شراب پینے سے ہلاک ہوئے۔
.....
/169