3 ستمبر 2012 - 19:30

ماہ اگست میں رونما ہونے والے اہم واقعات کی ایک مختصر رپورٹ پیش ہے۔ جس کے نتیجے میں __ شیعہ مسلمان شہید ہوئے جبکہ __مومنین فائرنگ کی مختلف واقعات میں زخمی ہوگئے۔ ماہانہ مندرجہ ذیل ہے۔

ابنا: سندھاگست کے مہینے میں صوبہ سندھ کے شہر کراچی میں 5 شیعہ مومنین کو کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے فرقے کی بنیاد پر نشانہ بنایا۔ جبکہ 3 شیعہ مومنین کو فائرنگ کے مختلف واقعات میں زخمی ہوئے، اگست کے مہینے میں زرداری حکومتی کی ایماء پر سکیورٹی اداروں نے کراچی کے مختلف علاقوں سے شیعہ نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا جن کو بعد میں عدم ثبوت اور علماء کی کوششوں سے رہا کردیا گیا۔

شہید ہونے والوں کے نام:14 اگست ساجد شہید17 اگست دو مومنین شہید(یوم القدس)17 اگست عباس حیدر25 اگست سید فراز حسین25 اگست شہزاد رضا

زخمی ہونے والوں کے نام:10 اگست سلمان اورزیشان17 اگست 18 مومنین زخمی (یوم القدس)27 اگست سکندر (حیدر آباد)

پنجاباگست کے مہنے میں صوبہ پنجاب سے کسی بھی قسم کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی!

گلگت بلتستانگلگت بلتستان میں جولائی کے مہینے میں 27 شیعہ مومنین کالعدم ملک دشمن جماعت سپاہ صحابہ فرقے کی بیاد پر نشانہ بنے، 3 اگست کو کونظام الدین نامی شیعہ مومن کو زبح کردیا جبکہ 5 اگست کو ایک بس میں دستی بم کے حملے سے شجاعت نامی شیعہ مومن شہید ہوگئے۔اس مہنے کا سب سے خطرناک واقعہ 16 کو سانحہ بابوسر کی صورت میں پیش آیاجس میں 25 شیعہ مومنین کو بس سے اُتار کر شناکت کے بعد شہید کردیا گیا۔

خیبر پختون خواہاگست کے مہنے میں صوبہ خیبر پختون خواہ سے کسی بھی قسم کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی!

بلوچستاناگست کے مہنے میں صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں 8 شیعہ مومنین کو کالعدم سپاہ صحابہ/ لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں نے نشانہ بنایا، 16 اگست کو ارباب خان روڈ پر فائرنگ کرنے 3 شیعہ مومنین کو شہید کردیا، 27 اگست کو اسپنی روڈ پر 3 شیعہ مومنین کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، 30 اگست کو کوئٹہ شہر میں سیشن جج ذولفقار نقوی اور اُن کے ملازم کو شہید کردیا گیا۔

—شیعہ کلنگ ڈاٹ کوم کے اعداد و شمار کے مطابق اگست کے مہینے میں پورے پاکستان میں40 شیعہ مومنین کو فرقے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔۔ جبکہ 25 سے زائد مومنین مختلف واقعات میں زخمی ہوئے۔

حکومتی، سکیورٹی اور عدلیہ کے چیمپین شیعہ نسل کشی پر بلکل خاموش نظر آئے۔ مختلف سیاسی جماعتوں میں موجود شیعہ نمائندگان اور خود ملت تشیعُ کے زمہ دار بھی بہتر طریقے سے اس مسئلے پر اپنی زمہ داریاں نہیں نبھاپائے۔

شیعہ کلنگ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 ماہ میں 386 شیعہ مسلمان فرقے بنیاد پر کالعدم سپاہ صحابہ / لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کے ہاتھوں شہید ہوچُکے ہیں مگر ان شہیدوں کے قاتلوں میں سے ایک بھی دہشتگرد کو سزا نہیں ملی۔ جو پاکستان کی ایوارڑ یافتہ عدلیہ کی کارگردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے

ستمبر 46شہیداکتوبر 18شہیدنومبر 11شہیددسمبر 14شہیدجنوری 57شہیدفروری 68شہیدمارچ 28 شہیداپریل 21 شہیدمئی 22 شہیدجون 32 شہیدجولائی 29 شہیداگست 40 شہید——————–ٹوٹل: 386——————–

.......

/169