3 ستمبر 2012 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے زیر اہتمام آج ایک احتجاجی دھرناہزار گنجی کے علاقے میں بے گناہ ہزارہ مومنین کے دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل عام کے خلاف لیاقت پارک کے سامنے دیاگیا۔ جس میں مومنین اپنے قوت ایمانی کامظاہرہ کیا۔ دھرنا الصبح سے شروع کیاگیا جو شام 5.00 تک جاری رہا ہے۔ ہزارہ قوم اور ملت جعفریہ کے افراد میں شدید غم وغصہ میں تھے۔

ابنا: علامہ سید ہاشم موسوی نے ٹیلی فونک اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،کہ دہشت گرد حملہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہےانہوں نے کہاکہ ہم دہشت گردی کی ہر صورت میں مذمت کرتے ہے ۔ حکومت نے دہشت گردوں کو بے گناہ ہزارہ مومنین کے قتل عام کی کھلی چوٹ دے رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے آ ئے دن دہشت گرد ہزارہ مومنین کو قتل کرکے فرار کرجاتے ہےاور حکومت کو دہشت گردوں کے بارے مکمل معلومات ہونے کے باوجود کوئی کاروائی عمل نہیں آتی۔ بلکہ صوبائی حکومت بے گنا ہ ہزارہ قوم اور کوئٹہ میں آباد ملت تشیع کے افراد کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ان کو اپنے کاروبار کی طرف آتے جاتے جگہ جگہ بلاوجہ تنگ کیاجاتاہے۔ جس کی وجہ سے  ملت تشیع یہ محسوس کرنے میں حق بجانب ہے کہ حکومت کو دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں۔ دھرنے کے شرکاء نے انتظامیہ ، صوبائی حکومت ، آئی جی پولیس  اور دہشت گردوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کی روڈ کو ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند کیا۔ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سردار سعادت علی ہزارہ چیف آف ہزارہ ٹراییب نے خطاب کرتےہوئے کہاکہ صوبائی حکومت مسلسل دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے میں لاپرواہی کا مظاہر ہ کررہے جس کی وجہ ہزارہ قوم  کو شدید تشویش لاحق ہیں اوردہشت گردی کاہم اپنے حوصلہ کے ساتھ اور جواں مردی کے ساتھ مقابلہ جاری رکھیں گے۔ ہمارے امن پسند ی  کو کمزوری نہ سمجھا جائے ہمارے قوم اتنی ہمت ہے کہ اپنا دفاع خو د کریں لیکن ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا نہیں چاہتے ۔ انہوں نے ہزارہ قوم کے جوانوں سے پر امن رہنے کی تاکیدکی ۔ دھرنے سے علامہ جمعہ اسدی ، علامہ کاظم اور مجلس وحدت مسلمین کوئٹہ کے سیکرٹری جنر ل جناب محمد یونس بھی خطاب کیا مقررین نے حکومت دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ آئے دن دہشت گردہزارہ قوم ملت جعفریہ نشانہ بناتے ہیں لیکن حکومت ان کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے حرکت میں نہیں آتے ہیں ۔انہوں نے ان دہشت گردوں کو اسلام دشمن شیطان پرستوں کا آلہ کار قرار دیکر حکومت سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔ آخر میں دھرنے کے شرکاء نے سردار سعادت علی ہزار ہ ودیگر اکابرین کی اپیل پر دھرنا ختم کرتے ہوئے جلوس کی شکل میں علمدار روڈ کی طرف روانہ ہوگیا۔ شرکاءنے جلوس اپنے مقررہ روٹ سے گزرتے ہوئے صوبائی حکومت ،انتظامیہ اور دہشت گردوں کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے علامتی نے دھرنا آئی جی پولیس کے دفتر کے سامنے دیا۔

.......

/169