اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تہران میں اسٹراٹیجک ریسرچ مرکز کے ڈائریکٹر امیر موسوی نے اتوار کے روز ذرائع کو بتایا کہ اگلے مہینے ہونے والی جنگی مشقیں در حقیقت خالصتا دفاعی مشقین ہیں جو فضائیہ کی تیاریوں میں اضافے، طیارہ شکن نظام نیز میزائل دفاعی نظام کی تقویت اور ان کی آمادگی کو دیکھنے کے مقصد سے ہورہی ہیں۔ واضح رہے کہ قبل ازيں خاتم الانبیاء (ص) فضائی دفاع ہیڈکوارٹرز کے سربراہ اسٹاف بریگیڈیئر جنرل فرزاد اسماعیلی نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی اگلے مہینے والی فضائی و میزائل دفاعی نظام کی مشقوں میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ فضائی دفاعی نظام کی یونٹوں نے اپنی الگ الگ مشقوں کا آغاز گذشتہ سال سے کیا ہے جو مختلف علاقوں ميں جاری و ساری رہتی ہیں۔موسوی نے کہا: طیارہ شکن و میزائل شکن ہتھیاروں اور فضائیہ کے طیاروں نیز بغیر پائلٹ کے طیاروں کی ان مشقوں کا مقررہ علاقہ پورے ایران پر محیط ہے۔ تا دارالحکومت تہران، تمام بڑے چھوثے شہر اور حساس فوجی اور جوہری مراکز کو تحفظ فراہم کی جاسکے اور ان تمام خطروں کا مقابلہ کیا جاسکے جو کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں پیش آسکتے ہیں۔انھوں نے کہا: ان مشقوں کی نئی بات یہ ہے کہ اس میں جدید ترین حکمت عملی کو بروئے کار لائے جائے گا، مختلف قسم کے گولہ بارود، سازو سامان، گاڑیوں، ہتھیاروں، جدیدترین راڈاروں، طیاروں، بغیر پائلٹ کے طیاروں اور طیارہ شکن و میزائل شکن نظام کے تجربات کئے جائیں گے اور تمام جنگی سازوسامان کو کمانڈ اینڈ آپریشن روم کے ذریعے حساس اور نہایت جدید قسم کے راڈاروں سے متصل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان مشقوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں روس کے ایس 300 "میزائل شکن و طیارہ شکن نظام" کے مشابہ اندرونی ساختہ نظام کا بھی تجربہ کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا: روس نے بیرونی دباؤ کے تحت ایران کو ایس 300 طیارہ و میزائل شکن نظام تحویل دینے سے انکار کیا تھ جس کے بعد ایران نے خود ہی یہ نظام بنانے کا عزم کیا اور اب ایس 300 کے خلاء کے ایرانی ساختہ ایس 300 نظام سے پرکیا جائے گا اور ممکنہ بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کا انتظام، مکمل کیا جائے گا۔.........
/110