27 اگست 2012 - 19:30

مصر نے ايک بار پھر شام ميں غير ملکي فوجي مداخلت کي سختي کے ساتھ مخالفت کي ہے-

ابنا: مصر کے صدر محمد مرسي نے قاہرہ ميں رائٹرز نيوز ايجنسي کو انٹر ويو ديتے ہوئے  شام ميں غيرملکي فوجي مداخلت کو سختي کے ساتھ مسترد کرديا-انہوں نے شام کے عوام سے اپيل کي کہ وہ صدر بشار اسد کي حمايت جاري رکھيں-مصر کے صدر نے دہشتگردي اور اندروني سيکورٹي کو شام کي اصل مشکلات قرار ديتے ہوئے کہا کہ شامي عوام کے دوست ممالک کو جن ميں چين، روس اور ديگر ممالک شامل ہيں، اس ملک ميں خون خرابہ بند کرانے کے لئے سفارتي کوششيں جاري رکھنا چاہئيں- صدر مرسي نے کہا کہ شامي عوام کو اپنے مستقبل کے بارے ميں فيصلہ کرنے کا پورا حق حاصل ہے-انہوں نے کہا کہ شام ميں کسي جمہوري راہ حل تک پہنچنے  اور قومي مذاکرات کے آغاز کے لئے انتخابي عمل کے ذريعے اصلاحات کا طريقہ اپنايا جانا چاہيے-مصر کے صدر نے شام کے خلاف فوجي مداخلت کي دھمکيوں کو نفسياتي جنگ کا حصہ قرار ديتے ہوئے کہا کہ شام ميں بيروني مداخلت کي باتيں دراصل اصلاحات کے عمل کو ناکام بنانے کے لئے کي جارہي ہيں-واضح رہے کہ شام مخالف مغربي اور عرب اتحاد شامي عوام کي نام نہاد حمايت کي آڑ ميں جنگ کا ڈھنڈورا پيٹ رہا ہے، حالانکہ امريکي فوج کے سربراہ جنرل ڈيمپسي نے شام کے خلاف جنگ کے خطرناک نتائج کے بارے ميں سخت خبردار کيا ہے -

.......

/169