ابنا: سربراہ شیعہ علما کونسل علامہ ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ایم ایم اے دوبارہ بحال نہیں ہو سکے گی جبکہ ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں تاہم ہمیں بتایا جائے کہ خودکش حملہ آوروں کی فیکٹری کس نے بنائی ہوئی ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی جامعہ الزہرہ ڈیرہ غازی خان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
اس موقع پر سید ندیم حیدر نقوی، صوبائی نائب صدر کاظم علی حیدری، مولانا محمد تقی فاضل، جون مہدی، مولانا سید شاہد حسین نقوی، غلام عباس، سید مہدی حسن نقوی، مولانا طاہر عباس کراروی، سید اقبال حسن شاہ، مولانا عاشق حسین سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ ملک تشویش ناک حالات اور خطرناک مرحلہ میں داخل ہو چکا ہے، حکومتیں حالات کو کنٹرول کرنے میں بےبس اور ناکام ہو چکی ہیں، معصوم لوگوں کو بسوں سے اتار کر شناخت کرکے گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے، جی ایچ کیو، مہران بیس اور کامرہ ائیربیس پر حملہ کے حقائق جاننا چاہتے ہیں کیونکہ کسی منظم ادارہ کی سرپرستی کے بغیر ایسے واقعات رونما نہیں ہو سکتے اس لئے حقائق جاننے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔
علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ عوام کے اندر غیض و غضب کا لاوا جب پھٹے گا تو قیادتیں ناکام ہوجاتی ہیں کیونکہ ملک میں اس وقت خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوچکی ہے، مہنگائی کے نفسیاتی اثرات آنے والی نسلوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، پوری قوم ڈپریشن کی حالت میں ہے جبکہ ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہے، ان تمام مسائل کا حل غیر جانبدرانہ اور منصفانہ انتخابات میں ہے کیونکہ ملک میں آج تک کبھی بھی منصفانہ انتخابات نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں قیام امن کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو آزاد و خود مختار بنا کر اسے آزادی سے کام کرنے دیا جائے جبکہ عبوری حکومت غیر جانبدار، بااختیار اور طاقتور ہونی چاہیئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے بحال نہیں ہوگی جبکہ ملی یک جہتی کونسل کے اجلاس منعقد ہو رہے ہیں تاہم ایم ایم اے کایہ فائدہ تھا کہ اس نے فرقہ وارانہ فضاء میں قیام امن کیلئے بہتر کردار ادا کیا تھا۔
.......
/169