اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اردن کی نیوز ویب سائٹ "المرصد" نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی اعلی حکام کو طبی رپورٹوں سے معلوم ہوا ہے کہ سعود الفیصل کی صحت بہت خراب ہے اور وہ اپنے عہدے کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے قابل نہیں رہے ہیں چنانچہ انھوں نے انہیں فوری طور پر برطرف کرکے بادشاہ کے بیٹے عبدالعزیز بن عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کو سعود عرب کا نیا وزیر خارجہ متعین کیا ہے۔سعود الفیصل کی طبی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی صورت میں وزیر خارجہ کی حیثیت سے مزید کام کرنے کے قابل نہیں ہیں چنانچہ سعودی حکام نے بامر مجبوری انہیں ان کے منصب نے معزول کیا۔سیاسی ذرائع کے مطابق عبدالعزیز بن عبداللہ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تہران اجلاس میں بادشاہ کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کریں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سعود الفیصل واقعی اپنا کام جاری رکھنے کے قابل نہيں رہے ہیں۔اس سے قبل بھی جدہ میں عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس سعود الفیصل کی بیماری کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا اور اسی وقت فرانس کے ایک ادارے نے اعلان کیا تھا کہ سعود الفیصل کا انتقال ہوچکا ہے: لنک ملاحظہ ہو:دو ولیعہدوں کے بعد کیا آل سعود کی تیسرے اہم اہلکار بھی چل بسے ہیں؟سعودالفیصل کی عمر 71 سال ہے اور وہ 1975 میں اپنے والد فیصل بن عبدالعزیز کی بادشاہی میں وزیر خارجہ بنے تھے اور اس عہدے پر سینتیس برسوں سے کام کررہے تھے اور اتنے طویل عرصے تک اس عہدے پر کام کرنے والے پہلے وزیر خارجہ تھے جبکہ اس سے بھی زیادہ عرصے تک بادشاہ، وزیر اعظم اور آمر کی حیثیت سے مسلط افراد کی عرب دنیا میں کوئی کمی نہيں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ امریکہ کا سب سے زیادہ اعتماد نائف بن عبدالعزیز، سعود الفیصل اور بندر بن سلطان پر ہے جن میں سے نائف کا انتقال ہوچکا ہے اور سعود الفیصل میدان سیاست سے نکل چکے ہیں جبکہ بندر بن سلطان شدید نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں۔............./110